گلگت بلتستان انتخابات اور ن لیگ کے زوال کی داستان

IMG 20260401 WA0479 3

کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی

​گلگت بلتستان کی یخ بستہ ہواؤں نے ایک ایسی سیاسی گرمی پیدا کر دی ہے جس نے تخت نشینوں کے ایوانوں تک کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔ یہ انتخابی نتائج محض چند نشستوں کا ردوبدل نہیں، بلکہ یہ اُس عوامی لاوے کا پہلا دھماکہ ہے جو پنجاب سے لے کر گلگت کی وادیوں تک حکمرانوں کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف پک رہا تھا۔ ن لیگ کی عبرتناک شکست نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب سیاسی نعروں اور حکومتی دعووں کی چکا چوند سے زیادہ عوام کی جیب پر پڑنے والے ڈاکے اور جبر کے ہتھکنڈے ووٹر کے فیصلے پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ گلگت کے باشعور عوام بخوبی جانتے تھے کہ جن پالیسیوں نے ملک کے دیگر حصوں میں عام آدمی کا جینا محال کر دیا ہے، انہیں وہ اپنی وادیوں میں کسی صورت مسلط نہیں ہونے دیں گے۔ اس شکست کی بنیادی وجہ قیادت کا اپنے مخلص اور دیرینہ کارکنوں سے لاتعلقی اور بڑھتی ہوئی دوری ہے۔ طویل عرصے تک کارکنوں کے جائز مسائل اور مشوروں کو نظر انداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں نچلی سطح پر تنظیمی ڈھانچہ ریت کی دیوار ثابت ہوا اور ووٹروں سے رابطہ مکمل ٹوٹ گیا۔ مقامی عوام نے ن لیگ سے اس لیے بھی گریز کیا کیونکہ انہوں نے پنجاب میں حکمرانوں کی پالیسیوں کا براہِ راست مشاہدہ کر رکھا تھا۔ سی سی ڈی (CCD) اور پیرا فورس کے ذریعے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم، بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافہ اور پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا کہ اگر ن لیگ کو یہاں بھی کامیاب کیا گیا تو یہی "عذاب” ان کی وادیوں میں بھی اتر آئے گا۔ یہی خوف اور مایوسی شکست کا سب سے بڑا محرک بنی۔ دوسری جانب، بلاول بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی نے جس طرح زمینی حقائق کو سمجھتے ہوئے حکمتِ عملی ترتیب دی، اس نے ن لیگ کے لیے دیوار پر لکھی تحریر واضح کر دی ہے۔ یہ نتائج ثابت کرتے ہیں کہ ن لیگ کی غلط پالیسیوں نے ووٹرز کو بری طرح مایوس کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بجلی کے بلوں میں شامل بھاری ٹیکس اور ظالمانہ ریٹس نے غریبوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ سی سی ڈی اور پیرا فورس اب عوام کے لیے ایک ایسی "غنڈا فورس” بن کر سامنے آئی ہیں جو بلاوجہ شہریوں کو ہراساں کر رہی ہیں۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ان اداروں کے ذریعے عوام پر بوجھ صرف حکمرانوں کے شاہانہ اخراجات پورے کرنے کے لیے ڈالا جا رہا ہے۔ ایسے میں وہ خوشامدی مشیر جو ٹی وی اسکرینوں پر بیٹھ کر اس شکست کو بھی کامیابی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ دراصل میاں صاحب اور پارٹی کے اصل دشمن ہیں کیونکہ وہ انہیں زمینی حقائق سے مسلسل دور رکھ رہے ہیں۔ افسوس! ہمارے حکمران ابھی تک اپنی انا کے حصار سے باہر نہیں نکل پا رہے۔ جب تک عہدوں کی غیر منصفانہ تقسیم، نااہل مشیروں کی فوج، کارکنوں سے رابطوں کا فقدان اور بجلی و ایندھن کے ظالمانہ ریٹس کا خاتمہ نہیں ہوتا، تب تک یہ تنزلی کا سفر جاری رہے گا اور آئندہ انتخابات میں ن لیگ کا انجام پورے ملک میں اس سے بھی زیادہ برا ہوگا۔ میاں نواز شریف کو اب اپنی سیاسی بصیرت کو بروئے کار لاتے ہوئے فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ پارٹی کو ان چند مفاد پرستوں کے ہاتھوں یرغمال رہنے دیں گے، یا پھر عوام کی دہلیز پر جا کر ان کا اعتماد بحال کریں گے۔ سیاست میں فیصلے کا وقت جب گزر جائے تو پھر پچھتاوے ہی بچتے ہیں۔ یہ آخری موقع ہے کہ میاں صاحب خود عملی میدان میں آ کر عوامی غیظ و غضب کو ٹھنڈا کریں، بصورتِ دیگر یہ لاوا پھٹا تو اس کی لپیٹ میں سب کچھ آ جائے گا۔ عوام اس وقت صبر کی آخری حدوں پر ہیں، اگر اب بھی حالات نہ سنبھلے تو یہ عوامی غصہ ایک بڑے سیاسی طوفان کی شکل اختیار کر جائے گا۔ خدا کرے کہ قیادت ہوش کے ناخن لے اور عوامی امنگوں کے مطابق فیصلے کرے تاکہ ملک و قوم کا بھلا ہو سکے۔ آمین

متعلقہ پوسٹ