ایران کی تازہ ترین صورتحال — ایک جامع تجزیاتی رپورٹ…!

IMG 20260127 WA0333

محمد علی انصاری
قم ایران

ایران ایک بڑے بحران سے کامیابی سے نکل آیا ایران اسلامی ایک بہت بڑے داخلی و خارجی بلوی اور ممکنہ جنگ کو سر کرنے میں کامیاب ہوا۔ تقریباً بیس ممالک کی خفیہ ایجنسیاں اس منصوبے میں ملوث تھیں۔ تمام علیحدگی پسند گروہ اور بیرونِ ملک موجود اپوزیشن جماعتیں پہلی بار متحد ہو کر انقلاب کو دو راتوں میں گرانے کا ارادہ رکھتی تھیں، مگر خود ہی ناکام ہو گئیں۔ داخلی صورتحال مکمل کنٹرول میں ایران کے اندرونی حالات مکمل طور پر کنٹرول میں ہیں۔ بڑی تعداد میں دہشتگرد اور تخریب کار عناصر گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ امریکا کی جنگی صلاحیت اور ایران کا دفاعی برتری امریکا اپنی داخلی کمزوریوں اور فوجی صورتحال کے باعث ایران کے خلاف جنگ کی پوزیشن میں نہیں امریکا کا ماضی کمزور ممالک پر حملوں سے بھرا ہے—افغانستان، عراق، لیبیا، وینزویلا—لیکن وینزویلا پر بھی مکمل جنگ نہ کر سکا۔ ایران کے پاس مضبوط ترین میزائل اور ڈرونز موجود ہیں جنہوں نے بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل کو شدید نقصان پہنچایا۔رہبر معظم کا مؤقف امریکا ایران کو نقصان پہنچا سکتا ہے، مگر ایران اس سے کہیں زیادہ بڑا نقصان امریکا کو پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکا کے لیے سب سے بڑا چیلنج ایران کے اردگرد امریکا کی تقریباً چالیس فوجی بیسز موجود ہیں، جو سب ایران کے نشانے پر ہیں۔ تنگۂ ہرمز—جسے عالمی معیشت کی شہ رگ کہا جاتا ہے—ایران نے اسے بند کرنے کی دھمکی دی ہے، جو امریکا اور مغرب کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ موجودہ جنگ کی نوعیت: حق و باطل کی جنگ اس وقت دونوں فریق "جنگِ بقاء” میں داخل ہو چکے ہیں۔ صورتحال "Do or Die” کی کیفیت اختیار کر چکی ہے—کوئی تیسرا راستہ نہیں۔ ایرانی قیادت کی حکمت گزشتہ 47 سالوں میں ایران نے براہِ راست جنگ سے خود کو بچاتے ہوئے اندرونی طور پر غیر معمولی استحکام حاصل کیا۔ آج ایران امریکا اور اسرائیل کے لیے ایک بڑا اسٹریٹجک چیلنج بن چکا ہے۔ امریکا نہ ایران کو چھوڑ سکتا ہے، نہ براہِ راست جنگ کر سکتا ہے۔ دشمن کے ممکنہ حربے شدید اقتصادی پابندیاں عوام کو سڑکوں پر لانا داخلی بدامنی پیدا کرناخود کو عوام کا نجات دہندہ ظاہر کر کے جنگ مسلط کرنا یہ تمام حربے حالیہ مظاہروں میں آزما لیے گئے، مگر ایرانی فورسز نے سب ناکام بنا دیا جنگی دھمکیوں کا اصل مقصد موجودہ امریکی دھمکیاں زیادہ تر نفسیاتی جنگ ہیں۔ مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے تاکہ امریکا اپنی شرائط منوا سکے—جو ایران کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ اگر امریکا جنگ کرنا چاہتا تو کب کا کر چکا ہوتا امریکا جانتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کا مطلب پورے خطے میں امریکی بیسز کی تباہی ہے۔ تازہ ترین عسکری صورتحال۔ ایران کی آبدوزیں اور بڑا بحری بیڑا خلیج فارس کی طرف حرکت کر چکے ہیں اور مکمل آمادہ ہیں۔ انصار اللہ یمن نے اعلان کیا ہے کہ ایران پر امریکی حملے کی صورت میں وہ تمام امریکی بحری جہازوں کو غرق کر دیں گے۔ عراقی حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ عراق میں موجود تمام امریکی بیسز کو نشانہ بنائے گی۔ لبنان میں حزب اللہ نے بڑے احتجاج کی کال دی ہے، جس سے شیخ نعیم قاسم خطاب کریں گے۔ مزاحمتی محاذ کی مجموعی تیاری پورا مزاحمتی محاذ مکمل چوکس اور ہم آہنگ ہے۔ کسی بھی حماقت کی صورت میں اس بار پورا محاذ بیک وقت حرکت میں آئے گا۔ پچھلی جنگ میں ایران نے صرف 30صلاحیت استعمال کی تھی اور جدید ترین میزائل بھی استعمال نہیں کیے تھے۔ اصل جنگ: 9 اور 10 جنوری کی اندرونی لڑای بہت سے لوگ ایران کے اندر ہونے والی اصل جنگ سے بے خبر ہیں۔ 9 اور 10 جنوری کو ایران میں ہونے والے واقعات محض مظاہرے نہیں تھے بلکہ ایک مکمل ہائبرڈ وار تھی۔ میدانِ جنگ ایران کی سڑکیں تھیں، مگر کمانڈ روم امریکا، برطانیہ، اسرائیل اور فرانس میں بیٹھا تھا۔ اس جنگ کا سب سے بڑا ہتھیار انٹرنیٹ تھا۔ بیرونِ ملک ٹریننگ یافتہ جاسوس عناصر کو اندر داخل کیا گیا تاکہ خونریزی ہو اور اس کا الزام ایرانی نظام پر ڈال کر عوام کو بغاوت پر اکسایا جائے۔ منصوبہ یہ تھا کہ داخلی انتشار کے بعد آخری کاری ضرب فوجی حملوں کی صورت میں دی جائے—جو ناکام ہو گئی۔

متعلقہ پوسٹ