زمین کا حرارتی عدم توازن ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا، عالمی حرارت میں مزید اضافے کا انتباہ

tm 120626 d


عالمی اشاریہ جات برائے موسمیاتی تبدیلی (IGCC) کی تازہ رپورٹ کے مطابق انسانی سرگرمیوں کے باعث ۲۰۲۵ء میں عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے قبل کی سطح سے ایک اعشاریہ ۳۷ درجہ سینٹی گریڈ تک بڑھ چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک اعشاریہ ۵ درجے کی اہم حد تقریباً چار سالوں میں عبور ہو سکتی ہے۔
رپورٹ، جو۱۷ ممالک کے ۵۶ اداروں سے تعلق رکھنے والے ۷۰ سے زائد سائنسدانوں نے تیار کی، میں زمین کے توانائی کے عدم توازن (EEI) کو ریکارڈ سطح پر پہنچنے کی نشاندہی کی گئی ہے، یعنی وہ شرح جس سے موسمی نظام میں اضافی گرمی جمع ہو رہی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ اشارہ حالیہ دہائیوں میں دگنا ہو چکا ہے۔
رپورٹ کے مرکزی مصنف پروفیسر پائرس فوسٹر نے کہا کہ انسانی اثرات کے بغیر یہ اشارہ صفر کے قریب ہونا چاہیے تھا، مگر ۱۹۷۰ کی دہائی سے یہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
۲۰۲۴ء میں عالمی گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ریکارڈ ۵۶ اعشاریہ ۸ ارب ٹن CO2e تک پہنچ گیا۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح ۴۲۵ اعشاریہ ۶ پی پی ایم، میتھین۱۹۳۶ اعشاریہ۳ پی پی بی، اور نائٹرس آکسائیڈ ۳۳۹ اعشاریہ۴ پی پی بی تک جا پہنچی۔
عالمی سطح سمندر ۱۹۰۱ء کے مقابلے ۲۳ سینٹی میٹر بلند ہو چکا ہے اور ہر سال ایک اعشاریہ۸ ملی میٹر کی شرح سے بڑھ رہا ہے۔ ۲۰۲۵ء میں دنیا نے ۶۵ دن سمندری گرمی کی لہریں دیکھیں، جو۱۹۹۱ء کے بعد تین گنا اضافہ ہے۔
باقی کاربن بجٹ صرف۱۳۰ ارب ٹن رہ گیا ہے، جو موجودہ شرح پر محض تین سال کے لیے کافی ہے۔ سائنسدانوں نے خبردار کیا کہ موجودہ اخراج کی شرح کے ساتھ دنیا ۲۰۳۰ء کے قریب ایک اعشاریہ۵ درجے کی حد عبور کر لے گی، اور اس دہائی کو فیصلہ کن قرار دیا ہے۔

متعلقہ پوسٹ