کراچی ایران امریکا مجوزہ معاہدے پر جنیوا میں دستخط متوقع ہیں، جسے قطر اور پاکستان کی مشترکہ ثالثی کے باعث "اسلام آباد معاہدہ” کا نام دیا جائے گا۔ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز فوری طور پر کھولنے اور امریکی ناکہ بندی ختم کرنے پر اتفاق ہوا ہے، ایران کو مشروط پابندیوں میں نرمی اور تیل کی فروخت کی اجازت دینے کی توقع ہے، جبکہ 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی جس میں لبنان بھی شامل ہوگا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جنیوا میں ممکنہ شرکت کی تیاریاں جاری ہیں، اور عرب میڈیا کے مطابق اسحاق ڈار بھی جنیوا جائیں گے۔
وائٹ ہاؤس اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے مشروط معاہدے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے جلد دستخط کیے جانے والے مفاہمتی یادداشت کے مطابق آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول ٹیکس کے فوری کھول دیا جائے گا، جبکہ ایران کو معاہدے کی پاسداری کے بدلے مرحلہ وار پابندیوں میں نرمی دی جائے گی۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس دوران ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کیے جائیں گے، اور متن میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر سے نمٹنے کے لیے ایک فریم ورک شامل ہے، تاہم جوہری پروگرام پر عملی اقدامات ایک دوسرے، زیادہ تفصیلی معاہدے سے مشروط ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران معاہدے کے متن پر متفق ہو چکے ہیں تاہم حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔ جمعرات کی شام تک ایران میں اعلیٰ سطح پر معاہدے کی منظوری دی جا چکی تھی، تاہم امکان ہے کہ سپریم لیڈر نے ابھی توثیق نہیں کی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ہفتہ وار تعطیلات کے دوران دستخط کی تقریب کی توقع رکھتے ہیں، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق تہران نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ گزشتہ دو ماہ میں وائٹ ہاؤس کئی بار سمجھ چکا تھا کہ معاہدہ قریب ہے مگر مذاکرات ناکام ہو جاتے رہے، تاہم اس بار سفارتکار نے امید ظاہر کی کہ یہ مسودہ برقرار رہے گا۔
جمعرات کو امریکی فضائیہ کے چار C-17 طیارے یورپ روانہ ہوئے تاکہ نائب صدر جے ڈی وینس کی ممکنہ جنیوا شرکت کے لیے سامان منتقل کیا جا سکے۔ دو ثالثی ممالک کے سفارتکاروں اور دو امریکی حکام کے مطابق بدھ کی شب کئی گھنٹوں کے مذاکرات کے بعد یہ ابتدائی معاہدہ طے پایا۔ ٹرمپ کے اعلان نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو حیران کر دیا، امریکی ذرائع کے مطابق وہ حالیہ دنوں میں اس پیش رفت سے لاعلم رہے اور معلومات کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے قریبی حلقوں سے رابطے کرتے رہے۔
مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام پر چند اہم وعدے کرے گا، جن میں سب سے اہم یہ کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور افزودہ یورینیم کے تنازع کو حل کرے گا۔ ایک سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق ایک آپشن یہ ہے کہ ایران اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کو اقوام متحدہ کے انسپکٹرز کی نگرانی میں ملک کے اندر ہی کم افزودہ سطح پر تبدیل کرے۔ تاہم جوہری پروگرام سے متعلق عملی اقدامات اسی صورت ہوں گے جب دوسرا، زیادہ تفصیلی معاہدہ طے پائے، جو ایک غیریقینی مرحلہ ہے کیونکہ ابتدائی معاہدے پر بھی مذاکرات مشکل رہے ہیں۔ سفارتکار کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشت تمام جوہری معاملات کی تفصیل بیان کرتی ہے اور امریکا کی تمام شرائط پوری کرتی ہے۔

