اسلام آباد — آئینی عدالت نے ایک تاریخی فیصلے میں ٹیکس حکام کو کلین چٹ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ وہ کسی بھی وقت، کسی بھی مقام پر پیشگی نوٹس دیے بغیر چھاپہ مارنے کا مکمل قانونی اختیار رکھتے ہیں۔
عدالت کے فیصلے میں واضح کیا گیا کہ ٹیکس حکام کو چھاپے کے دوران کاروباری دستاویزات، مالی ریکارڈ اور اکاؤنٹس کا ڈیٹا قبضے میں لینے کا بھی پورا حق حاصل ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ ٹیکس چوری اور مالی بے ضابطگیوں کے بڑھتے ہوئے مقدمات کے تناظر میں سنایا۔
ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور دیگر ٹیکس اداروں کو ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور دستاویزی معیشت کو فروغ دینے میں نمایاں مدد ملے گی۔ تاہم تاجر تنظیموں نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کاروباری ماحول متاثر ہو سکتا ہے اور حکام کے اختیارات کے غلط استعمال کا خدشہ بھی موجود ہے۔
آئینی عدالت کا یہ فیصلہ ٹیکس انفورسمنٹ کے حوالے سے ایک نئی قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے اور آئندہ مقدمات میں اہم نظیر کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔

