واشنگٹن — امریکی صدر نے کہا ہے کہ بحیثیت کمانڈر اِن چیف اپنے اختیارات کی حد کا فیصلہ کرنے والا میں خود ہی ہوں۔ صدر کے اس بیان نے امریکی سیاسی اور آئینی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ملکی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے صدر کو آئین کے تحت وسیع اختیارات حاصل ہیں، اور بطور کمانڈر اِن چیف انہیں یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ حالات کے مطابق فیصلے کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے اقدامات کا مقصد ملک کا دفاع اور امریکی عوام کا تحفظ ہے۔
صدر نے مزید کہا کہ وہ قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے فیصلے کرتے ہیں، تاہم بعض اوقات غیر معمولی حالات میں فوری اور مضبوط قیادت ناگزیر ہوتی ہے۔ ان کے مطابق قومی سلامتی کے معاملات میں تاخیر یا ابہام ملک کے مفاد کے خلاف ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب صدر کے اس بیان پر اپوزیشن رہنماؤں اور آئینی ماہرین کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر کے اختیارات پر کانگریس اور عدلیہ کی نگرانی امریکی جمہوری نظام کا بنیادی ستون ہے، اور کسی ایک فرد کو اختیارات کی حد کا خود تعین کرنے کا دعویٰ خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امریکی صدر کا یہ بیان آئندہ دنوں میں واشنگٹن کی سیاست میں مزید بحث و مباحثے کو جنم دے سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکہ کو اندرونی اور بیرونی سطح پر کئی اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔

