صومالی لینڈ کے معاملے پر او آئی سی اجلاس آج، اسحاق ڈار شرکت کریں گے

391480 1779756098


پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ہفتے کو جدہ میں منعقد ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) وزرائے خارجہ کونسل کے ایک غیر معمولی اجلاس میں شرکت کریں گے، جس میں اسرائیل کی جانب سے وفاقی جمہوریہ صومالیہ کے نام نہاد خطے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے مضمرات کا جائزہ لیا جائے گا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جمعے کو جاری بیان کے مطابق او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں اسحاق ڈار شرکا کو صومالی لینڈ کے معاملے پر پاکستان کے موقف سے آگاہ کریں گے۔

اس موقعے پر وہ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر مزید تعاون پر بات چیت کے لیے او آئی سی کے رکن ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسرائیل نے گذشتہ ماہ کے آخر میں صومالیہ کے علیحدگی پسند خطے صومالی لینڈ کو آزاد اور خود مختار ریاست کے طور پر باضابطہ تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا، جسے صومالیہ نے غیر قانونی اور اس کی خود مختاری پر دانستہ حملہ قرار دیا ہے۔

پاکستان کی جانب سے بھی اس اسرائیلی اقدام کی متعدد بار مذمت کی گئی ہے۔ 29 دسمبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں پاکستانی نائب مندوب عثمان جدون نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا اسرائیلی اعلان مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ صومالی حکومت ملکی استحکام کے اقدامات کر رہی ہے لیکن اسرائیلی رویہ غیر ذمہ دارنہ اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش ہے۔

اس سے قبل بھی پاکستان سمیت 21 عرب، اسلامی اور افریقی ممالک نے 28 دسمبر کو صومالی لینڈ خطے کو تسلیم کرنے کے اسرائیلی اقدام کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ’صومالی لینڈ کے نام نہاد خطے کو اسرائیل کی جانب سے تسلیم کرنا قرن افریقہ اور بحیرۂ احمر کے خطے میں امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے اور عالمی امن و سلامتی پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے، جو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے منافی ہے۔‘

مشترکہ بیان میں وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی خودمختاری کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے مزید کہا گیا تھا کہ ’وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی خودمختاری کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا جاتا ہے اور صومالیہ کی وحدت، علاقائی سالمیت یا خودمختاری کو کمزور کرنے والے کسی بھی اقدام کو دوٹوک انداز میں مسترد کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ پورے ملک کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔‘

 





Source link

متعلقہ پوسٹ