فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق، جون 2025 سے نومبر 2025 کے درمیان 300 سے زائد مساجد، مزارات اور درگاہیں بلڈوزر کارروائی میں مسمار کی گئیں۔ رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی گئی ہے کہ ان میں کئی ایسی مذہبی جگہیں شامل تھیں جو دہائیوں بلکہ صدیوں سے قائم تھیں اور باقاعدہ مذہبی سرگرمیوں، اجتماعی عبادات اور سماجی زندگی کا مرکز تھیں۔
السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر
گزشتہ 21 جنوری کو ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی 56 صفحات پر مشتمل فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ منظرعام پر آئی ہے، جس میں اتراکھنڈ میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں، فرقہ وارانہ تشدد اور منظم امتیازی کارروائیوں کو تفصیل کے ساتھ درج کیا گیا ہے۔
رپورٹ زمینی حقائق، سرکاری نوٹس، ایف آئی آر، عدالتی ریکارڈ اور متاثرین کی براہِ راست شہادتوں پر مبنی دستاویز ہے۔
یہ رپورٹ 21 جنوری 2026 کو نئی دہلی کے پریس کلب آف انڈیا میں ایک باضابطہ تقریب کے دوران جاری کی گئی۔
فیکٹ فائنڈنگ ٹیم میں کوشک راج، سرشٹی جسوال، خورشید احمد اور تسلیم انصاری شامل تھے۔
اس ٹیم نے اتراکھنڈ کے مختلف اضلاع کے دورے کیے، متاثرین اور عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کیے اور سرکاری و عدالتی دستاویزات کی بنیاد پر رپورٹ مرتب کی۔ متاثرین کی سلامتی کے پیش نظر متعدد شہادتیں نام ظاہر کیے بغیر شامل کی گئی ہیں، تاہم تمام نکات کو دستاویزی شواہد سے جوڑا گیا ہے۔
رپورٹ کو جاری کرتے ہوئے سماجی کارکن ہرش مندر نے کہا کہ اتراکھنڈ کے واقعات ایک منظم سیاسی عمل کی عکاسی کرتے ہیں۔
فوٹو بہ شکریہ: ندیم احمد خان، نیشنل سکریٹری اے پی سی آر
وہیں، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستی اقدامات آئینی حدود کے اندر کیے جانے چاہیے اور ان پر عدالتی و سماجی نگرانی انتہائی ضروری ہے۔
اس موقع پر دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے مذہبی اقلیتوں میں بڑھتے عدم تحفظ کے احساس پرتشویش کا اظہارکیا، جبکہ سینئر صحافی صبا نقوی نے میڈیا کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ متعدد زمینی حقائق قومی مباحثے میں جگہ نہیں پا سکے۔
تقریب میں اتراکھنڈ کے سابق ریاستی وزیر یعقوب صدیقی اور اتراکھنڈ تحریک کے سینئر رہنما لطافت حسین نے ریاستی تناظر میں ان واقعات کے سماجی اثرات پر گفتگو کی۔
فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں کیا ہے؟
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2021 سے 2025 کے اواخر تک اتراکھنڈ میں مسلمانوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔ واضح طور پر کہیں تو دائیں بازو کے ہندوتوا گروپوں نے اتراکھنڈ میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور نفرت کو خوب ہوا دی۔
اس طرح کہیں نفرت انگیز مہمات چلیں، کہیں معاشی بائیکاٹ ہوا، کہیں دکانیں توڑی گئیں اور کہیں مذہبی مقامات کو ’غیر قانونی‘ قرار دے کر مسمار کیا گیا۔ ان تمام کارروائیوں کو مختلف اوقات میں ’لو جہاد‘، ’لینڈ جہاد‘ اور ’مزار جہاد‘ جیسے نعروں کے ذریعے جائز ٹھہرانے کی کوشش کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق، یہ نعرے محض سیاسی بیانات نہیں رہے، بلکہ انتظامی کارروائیوں، قانونی فیصلوں اور زمینی اقدامات کا جواز بنتے چلے گئے۔
امیدپورٹل اور مساجد و مزارات کی مسماری
اے پی سی آر کی رپورٹ کے مطابق،امید پورٹل کے نفاذ کے بعد مساجد اور مزارات کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔
ریاستی حکومت کی جانب سے جون 2025 تک وقف املاک کی ڈیجیٹل رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی، جس کے نتیجے میں اتراکھنڈ میں وقف کی تقریباً 75 فیصد جائیدادیں مقررہ وقت میں رجسٹر نہ ہو سکیں۔
رپورٹ بتاتی ہے کہ یہ ناکامی کسی غیر قانونی تعمیر یا تجاوزات کی وجہ سے نہیں، بلکہ تکنیکی خامیوں، بار بار کریش ہونے والے پورٹل، پیچیدہ اندراجی نظام اور صدیوں پرانی دستاویزات کے فقدان کی وجہ سے ہوئی۔
رپورٹ میں درج ہے کہ کئی مساجد اور مزارات دو سو برس یا اس سے بھی زیادہ عرصے سے قائم تھیں، مگر ان کے پاس وہ دستاویزات موجود نہیں تھیں جن کا تقاضہ ڈیجیٹل رجسٹریشن کے لیے کیا گیا۔
اس کے باوجود، ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد ان غیر رجسٹرڈ مساجد اور مزارات کو خودکار طور پر ’ متنازعہ‘ اور ’غیر قانونی‘ قرار دے دیا گیا۔
اے پی سی آر کی رپورٹ کے مطابق، جون 2025 سے نومبر 2025 کے درمیان 300 سے زائد مساجد، مزارات اور درگاہیں بلڈوزر کارروائی میں مسمار کی گئیں۔ رپورٹ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ان میں کئی ایسی مذہبی جگہیں شامل تھیں جو دہائیوں بلکہ صدیوں سے قائم تھیں اور باقاعدہ مذہبی سرگرمیوں، اجتماعی عبادات اور سماجی زندگی کا مرکز تھیں۔
رپورٹ میں دہرادون کی شاہ درگاہ کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے، جو 1982 سے وقف بورڈ میں رجسٹرڈ تھی، مگر اپریل 2025 میں رات کے وقت بغیر کسی پیشگی نوٹس کے مسمار کر دی گئی۔
اس واقعے پر سپریم کورٹ کو مداخلت کرنا پڑی اور ریاستی حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کا نوٹس جاری ہوا۔
رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح رجسٹرڈ مذہبی مقامات بھی انتظامی کارروائیوں سے محفوظ نہیں ہیں۔
اسی طرح ہریدوار میں اتراکھنڈ کی سب سے بڑی مسجدکی تعمیر صرف اس بنیاد پر رکوا دی گئی کہ ضلع مجسٹریٹ کی اجازت نہیں لی گئی تھی، حالانکہ رپورٹ کے مطابق اسی علاقے میں مندروں کی توسیع کے لیے ایسی کوئی اجازت طلب ںہیں کی جاتی۔ اے پی سی آر اسے انتظامی رویے میں واضح عدم توازن کی مثال کے طور پر پیش کرتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ ہریدوار، دہرادون، نینی تال اور ادھم سنگھ نگر میں درجنوں مساجد اور مزارات کو ’غیر قانونی تجاوزات‘ کے نوٹس جاری کیے گئے، جبکہ انہی اضلاع میں واقع مندروں اور گرجا گھروں کو ایسی کسی جانچ یا کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق، یہاں ’غیر قانونی تجاوزات‘ کی اصطلاح عملی طور پر ایک مخصوص مذہبی برادری کو نشانہ بنانے کا انتظامی ہتھیار بن گئی۔
مدرسہ ایجوکیشن بورڈ اور اقلیتی تعلیمی ادارہ جات بل 2025
اے پی سی آر کی رپورٹ میں اتراکھنڈ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی تحلیل اور اس کے بعد لائے گئے اتراکھنڈ اقلیتی تعلیمی ادارہ جات بل 2025 کو متعصبانہ قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ مسلمانوں کی دینی تعلیم کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ ہے۔
رپورٹ بتاتی ہے کہ اتراکھنڈ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ایسا ادارہ تھا، جس میں مسلمانوں کی مؤثر نمائندگی موجود تھی۔ اس بورڈ کی 13 نشستوں میں سے 9 نشستیں مسلمانوں کے پاس تھیں۔ نصاب کی تشکیل، اساتذہ کی اہلیت، امتحانات اور مدارس کی تسلیم شدگی جیسے بنیادی فیصلے انہی مسلم ماہرین کی نگرانی میں ہوتے تھے۔
یہی وہ ڈھانچہ تھا جو آئین ہند کے آرٹیکل 30(1) کے تحت اقلیتوں کو حاصل تعلیمی خودمختاری کی عملی شکل تھا۔
اے پی سی آر کے مطابق، اس بورڈ کو مکمل طور پر ختم کر کے اس کی جگہ ایک نئی سرکاری اتھارٹی،اتراکھنڈ اسٹیٹ اتھارٹی فار مائنارٹی ایجوکیشن (یو ایس اے ایم ای)قائم کی گئی۔
اس نئی اتھارٹی میں 12 اراکین میں سے مسلمانوں کو صرف ایک نشست دی گئی، جبکہ باقی ارکان براہِ راست سرکاری نظام یا اکثریتی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اس تبدیلی کے بعد نصاب، مدارس کے اساتذہ کی اہلیت، اور اداروں کی منظوری کا اختیار مسلم ماہرین کے ہاتھوں سے نکل کر حکومت کے ہاتھ میں چلا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، اقلیتی تعلیمی ادارہ جات بل 2025 کے تحت تمام مدارس کو ریاستی تعلیمی بورڈ سے الحاق اور اسی نئی اتھارٹی سے اقلیتی حیثیت حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
جو مدارس اس عمل میں ناکام رہیں گے، انہیں ’غیر تسلیم شدہ‘ قرار دے کر بند کیا جا سکتا ہے۔
اے پی سی آر کے مطابق، اس کے نتیجے میں صدیوں پرانے دینی تعلیمی ادارے صرف انتظامی شرائط کی بنیاد پر غیر قانونی قرار دیے جا سکتے ہیں۔
رپورٹ اس نکتے پر خاص زور دیتی ہے کہ یہ قانون ایسے وقت میں لایا گیا، جب جنوری سے اپریل 2025 کے درمیان پہلے ہی 214 مدارس سیل کیے جا چکے تھے۔
رپورٹ اس ترتیب کو ایک واضح حکمتِ عملی کے طور پر بیان کرتی ہے کہ؛ پہلے انتظامی کارروائیوں کے ذریعے بحران پیدا کیا گیا، پھر اسی بحران کو بنیاد بنا کر قانون سازی کی گئی، اور بالآخر سرکاری کنٹرول کو ’اصلاح‘ کے طور پر پیش کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، اس قانون کے تحت مدارس کو صرف تین سال کے لیے عارضی منظوری دی جائے گی، جسے کسی بھی وقت واپس لیا جا سکتا ہے۔ دفعہ 14(ک) میں’فرقہ وارانہ ہم آہنگی‘کے خلاف سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے، مگر اس اصطلاح کی کوئی واضح تعریف موجود نہیں۔
اے پی سی آر کے مطابق، یہ مبہم زبان افسران کو یہ وسیع اختیار فراہم کرتی ہے کہ وہ کسی بھی دینی یا فکری سرگرمی کو بنیاد بنا کر مدرسے کی منظوری منسوخ کر دیں۔ اس کے نتیجے میں مدارس میں مستقل خوف اورسیلف سنسرشپ کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔
رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ ریاست میں موجود تمام 452 مدارس کو نئے نظام کے تحت ازسرِ نو رجسٹریشن کرانا ہوگا، جبکہ مندروں اور دیگر اکثریتی مذہبی اداروں کو ایسی کسی عارضی منظوری یا بار بار جانچ کا سامنا نہیں۔ یہی امتیاز، رپورٹ کے مطابق، اس دعوے کو کمزور کرتا ہے کہ یہ قانون ’تمام اقلیتوں‘ کے لیے ہے، کیونکہ اس کا عملی اطلاق بنیادی طور پر صرف مسلم اداروں پر ہوتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ رپورٹ اتراکھنڈ میں مساجد، مدارس اور مسلم شناخت کو درپیش چیلنجز کے بارے میں بتاتی ہے اورواضح لفظوں میں نفرت انگیز تقاریر اور نفرت انگیز جرائم کی مذمت کرتی ہے۔
اس کے ساتھ ہی اے پی سی آر کی یہ رپورٹ نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ جرائم کے معاملات میں مؤثر اور غیر جانبدارانہ قانونی کارروائی کی ضرورت کی نشاندہی کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ ایسے واقعات میں متاثرین کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے اور معاشی بائیکاٹ جیسے امتیازی اقدامات پر روک لگنی چاہیے۔
رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ آئینی اقدار، مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ریاست اور مرکز دونوں کی ذمہ داری ہے، اور سماجی ہم آہنگی کے لیے تشدد کے خلاف واضح اور مؤثر زیرو ٹالرنس پالیسی ناگزیر ہے۔


