اسلام آباد، یکم فروری 2026 — پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) کی جانب سے جاری تازہ ترین پی ایس ایل ایم–ایچ آئی ای ایس 2024–2025 سروے (جس کا جائزہ فافن نے بھی لیا ہے) کے مطابق پاکستان کی مجموعی شرحِ خواندگی (عمر 10 سال اور اس سے زائد) 63 فیصد ہے۔ یہ شرح 2018–19 کے مقابلے میں صرف 3 فیصد زیادہ ہے (جب یہ 60 فیصد تھی)۔
پاکستان جنوبی ایشیا کے بڑے ممالک میں سب سے کم شرحِ خواندگی رکھتا ہے اور خطے کی اوسط سے کافی پیچھے ہے۔
جنوبی ایشیا میں خواندگی کا موازنہ (تازہ ترین عالمی بینک / یونیسکو کے اعداد و شمار کے مطابق):
مالدیپ: 98 فیصد سے زائد (خطے میں سب سے زیادہ)
سری لنکا: 93 فیصد
بھارت: تقریباً 87 فیصد
بنگلہ دیش: تقریباً 79 فیصد
جنوبی ایشیا کی اوسط: تقریباً 78 فیصد
پاکستان: 63 فیصد (خطے کی اوسط سے نمایاں طور پر کم)
پی بی ایس کے اہم اعداد و شمار:
جنس کے لحاظ سے فرق: مردوں میں خواندگی 73 فیصد، خواتین میں صرف 54 فیصد۔
صوبائی تفاوت:
پنجاب: 68 فیصد (سب سے زیادہ)
سندھ اور خیبر پختونخوا: تقریباً 58 فیصد ہر ایک
بلوچستان: 49 فیصد (سب سے کم)
عمر کے گروپ کے لحاظ سے:
نوجوان (15–24 سال): 77 فیصد (2018–19 میں 72 فیصد تھی)
مجموعی بالغ آبادی: 60–63 فیصد کے قریب
دیہی علاقوں اور خاص طور پر دیہی خواتین میں رفتار سست ہے، البتہ نوجوان دیہی خواتین میں حالیہ برسوں میں قابلِ ذکر بہتری دیکھی گئی ہے۔
آئینی اور عالمی ذمہ داریاں
پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 25-A کے تحت 5 سے 16 سال کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان ایس ڈی جی 4 (معیاری تعلیم) کا بھی پابند ہے۔ اس کے باوجود تعلیم پر سرکاری اخراجات کم (حالیہ برسوں میں جی ڈی پی کا تقریباً 1.9–2 فیصد) اور اسکول سے باہر بچوں کی بڑی تعداد ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
فافن کا جائزہ بتاتا ہے کہ اگرچہ نوجوانوں میں خواندگی کی بہتری مستقبل کے لیے امید ہے، لیکن مجموعی سست روی — خصوصاً بلوچستان، دیہی علاقوں اور لڑکیوں/خواتین میں — فوری پالیسی توجہ مانگتی ہے۔

