عالمی بینک نے کہا ہے کہ دنیا میں اگلے 10 سے 15 برس کے دوران 1.2 ارب نوجوانوں کا اضافہ ہوگا جنہیں نئے روزگار درکار ہوں گے جبکہ صرف 40 کروڑ کو روزگار میسر ہوگا۔
عالمی بینک نے رپورٹ میں بتایا کہ آئندہ 10 سے 15 سال کے دوران عالمی سطح پر ترقی پذیر ممالک میں روزگارکے متلاشی افراد کی تعداد 1.2 ارب تک اضافہ ہوگا جن میں سے تقریباً 40 کرو ڑ افراد کو روزگار دستیاب ہوگا جبکہ 2050 تک دنیا کی مجموعی آبادی کا تقریباً 80 فیصد حصہ ترقی پذیر ممالک میں رہائش پذیر ہوگا جس کے تناظر میں ترقی پذیر ممالک کو جامع اقدامات کی ضرورت ہوگی۔
عالمی بینک کے مطابق بے روزگاری کی شرح میں کمی اور روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے کے لیے سستی توانائی کی فراہمی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، صحت اور تعلیم کی بہتر سہولیات، جامع پالیسی سازی اور مالیات تک بہتر رسائی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں نوجوان افرادی قوت سے بھرپور استفادے کے لیے جامع حکمت عملی کے تحت بنیادی ڈھانچہ کے شعبہ کی ترقی کو بنیادی اہمیت دی جا رہی ہے جس سے تعلیم اور صحت کی بہتر سہولیات کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو مالیا ت تک بہتر رسائی فراہم کرنے کے علاوہ توانائی کے شعبے پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ مسابقتی نرخوں پر توانائی کی دستیابی سے پیداواری لاگت کو کم کیا جاسکے۔
عالمی بینک کے مطابق 2050 تک دنیا کی مجموعی آبادی کا تقریباً 80 فیصد حصہ ترقی پذیر ممالک میں رہائش پذیر ہوگا جس کے تناظر میں ترقی پذیر ممالک کو جامع اقدامات کی ضرورت ہوگی۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ برسوں میں ترقی پذیر ممالک میں ایک ارب 40 کروڑ نوجوان افرادی قوت کا حصہ بنیں گے، جبکہ انہی ممالک میں صرف 40 کروڑ نئی ملازمتیں متوقع ہیں، اس طرح 80 کروڑ نوجوان واضح مواقع سے محروم رہ جائیں گے۔
مزید بتایا گیا کہ اندازوں کے مطابق 2050 تک دنیا کی 80 فیصد آبادی ان ممالک میں مقیم ہوگی جو اس وقت ترقی پذیر شمار ہوتے ہیں۔
عالمی بینک کا کہنا ہے کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے اس کے پاس عوامی مالی وسائل، گہری مہارت اور نجی شعبے کی شراکت داری جیسا منفرد امتزاج موجود ہے، جس کے ذریعے حکمت عملی کو عملی اقدامات میں بدلا جا رہا ہے اور اس ضمن میں بنیادی جسمانی و انسانی ڈھانچے جیسے سڑکیں، بندرگاہیں، تعلیم اور مہارتوں کی تربیت میں سرمایہ کاری، پالیسی اور ریگولیٹری ماحول کی بہتری اور نجی سرمایہ کاری کو بڑے پیمانے پر متحرک کرنا شامل ہے۔
ادارے نے پانچ ایسے شعبوں کی نشان دہی کی ہے جہاں مقامی سطح پر بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں اور جو ترقی یافتہ ممالک کی ملازمتوں پر اثرانداز نہیں ہوں گے، ان میں بنیادی ڈھانچہ (بشمول توانائی)، زرعی کاروبار، صحت کی دیکھ بھال، سیاحت اور ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس وڑن کی تکمیل کے لیے کئی عملی اقدامات شروع کیے گئے ہیں، “مشن 300” کے تحت، جو افریقی ترقیاتی بینک اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے جاری ہے، 2030 تک افریقہ میں 30 کروڑ افراد کو بجلی کی فراہمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے کیونکہ توانائی کو روزگار کی پہلی اینٹ قرار دیا گیا ہے۔
اسی طرح زرعی کاروبار میں سرمایہ کاری کو دگنا کرتے ہوئے 2030 تک سالانہ 9 ارب ڈالر تک پہنچانے اور مزید 5 ارب ڈالر نجی شعبے سے حاصل کرنے کا ہدف ہے، جس میں چھوٹے کسانوں اور روزگار کو مرکزیت دی گئی ہے۔
عالمی بینک نے کہا کہ ڈیڑھ ارب افراد کو معیاری اور قابلِ استطاعت صحت کی سہولیات فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف صحت کے نتائج بہتر ہوں گے بلکہ ہنر مند طبی ماہرین کی بڑھتی طلب بھی پوری کی جا سکے گی۔
اسی طرح معدنیات اور کان کنی سے متعلق آئندہ حکمتِ عملی میں قانونی و ریگولیٹری اصلاحات کو مخصوص سرمایہ کاری حل کے ساتھ جوڑا جائے گا تاکہ قدرتی وسائل کو معاشی ترقی کا محرک بنایا جا سکے۔
مزید بتایا گیا کہ ترقیاتی منصوبے پائیدار، مالی طور پر ذمہ دار اور مقامی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں گے، سیلاب سے محفوظ سڑکوں کی تعمیر، خشک سالی سے بچاؤ کے بیجوں کی فراہمی، عوامی اخراجات میں بہتری، غیر مؤثر سبسڈیز کی تنظیم نو، بدعنوانی کی روک تھام اور مقامی ٹیکس نظام کو مضبوط بنانا اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
رپورٹ کہا گیا کہ رفتار اور اعداد و شمار اپنی جگہ، مگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ایک نوجوان کو روزگار ملے گا، کسی کسان کی فصل ٹھنڈے ٹرک کے ذریعے منڈی تک پہنچے گی اور ایک کلینک کو مستقل بجلی میسر آئے گی۔
عالمی بینک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس وعدے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پرعزم ہے۔
Source link

