لندن/اسلام آباد
برطانیہ کے معتبر اخبار فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک تجزیاتی مضمون میں بھارتی دفاعی تجزیہ کار سشانت سنگھ نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے سفارتی محاذ پر ایسی پوزیشن حاصل کر لی ہے جو بھارت کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں۔
مضمون میں لکھا گیا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے، جبکہ بھارت مشرقِ وسطیٰ سے متعلق کلیدی مذاکرات سے باہر ہے اور واشنگٹن میں اپنا روایتی اثر و رسوخ کھوتا جا رہا ہے۔
سشانت سنگھ نے لکھا کہ پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب پر مشتمل ابھرتا ہوا بلاک علاقائی طاقت کے توازن میں بنیادی تبدیلی کی علامت ہے، اور یہ صورتحال بھارت کو اپنی خارجہ پالیسی پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔
تجزیہ کار نے مزید لکھا کہ پاکستان نے بیک وقت امریکا اور چین دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھے ہیں، جو اسے ایک منفرد سفارتی مقام عطا کرتا ہے۔ خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے فیلڈ مارشل کو ثالثی کے لیے ترجیح دیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اس صورتحال میں سنگین سفارتی پسپائی کا سامنا ہے۔
یہ مضمون ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکا-ایران کشیدگی عروج پر ہے اور پاکستان کا سفارتی کردار عالمی سطح پر تیزی سے اہمیت اختیار کر رہا ہے۔

