اسپیس ایکس کا پاکستانی نوجوان کی کمپنی ‘کرسر’ کو 60 ارب ڈالر میں خریدنے کا معاہدہ

IMG 20260423 WA2315


واشنگٹن / کراچی — خصوصی رپورٹ
دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس نے مصنوعی ذہانت پر مبنی کوڈ ایڈیٹنگ ٹول کرسر کو 60 ارب ڈالر میں خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ اس کامیابی کو پاکستان کے لیے خصوصی اعزاز اس لیے قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ کرسر کے شریک بانیوں میں کراچی سے تعلق رکھنے والے صالح آصف بھی شامل ہیں۔
معاہدے کی تفصیل
اسپیس ایکس نے ایکس پر اعلان کیا کہ کرسر نے انہیں رواں سال 60 ارب ڈالر میں کمپنی خریدنے کا اختیار دیا ہے۔ اگر یہ خریداری نہ ہوئی تو اسپیس ایکس باہمی تعاون کے لیے 10 ارب ڈالر ادا کرے گی۔ مقصد کرسر کی سافٹ ویئر مہارت کو اسپیس ایکس کے سپر کمپیوٹرز کے ساتھ ملا کر دنیا کے سب سے کارآمد اے آئی ماڈلز تیار کرنا ہے۔
کراچی سے ایم آئی ٹی تک
فوربز کے مطابق صالح آصف نے کراچی میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور 2016 تا 2018 بین الاقوامی ریاضی اولمپیاڈ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ بعد ازاں وہ میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) پہنچے جہاں انہوں نے تین دوستوں کے ساتھ مل کر Anysphere قائم کی جس کے تحت کرسر تیار کیا گیا۔
کمپنی کی ترقی
کرسر کی سالانہ آمدنی اب ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ نومبر 2025 میں 2.3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے بعد کمپنی کی مجموعی مالیت 29.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس وقت دنیا بھر کی 50 ہزار کمپنیوں کے سافٹ ویئر ڈویلپرز کرسر استعمال کر رہے ہیں۔
سابق نگران وزیر آئی ٹی ڈاکٹر عمر سیف نے صالح آصف کو پاکستانی نوجوانوں کے لیے حقیقی رول ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض 26 سال کی عمر میں سیلف میڈ ارب پتی ہیں جنہوں نے کوڈنگ کی دنیا بدل دی۔

متعلقہ پوسٹ