تل ابیب |
بین الاقوامی امور ڈیسک
اسرائیل میں فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کی اجازت دینے والا متنازع قانون اتوار سے نافذ العمل ہو گیا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ اوی بلوت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اس قانون کے اطلاق کے لیے ضروری فوجی حکم نامے پر دستخط کر دیے۔
نئے قانون کے تحت ایسے مقدمات جن میں اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے ہوں، عدالتوں کو سزائے موت کو واحد بنیادی سزا کے طور پر نافذ کرنا ہوگا، الا یہ کہ عدالت کسی "خصوصی صورتحال” کی بنیاد پر عمر قید دینے کا فیصلہ کرے۔
اسرائیلی اخبار ہاریٹز نے رپورٹ کیا کہ قانون کی نظریاتی زبان اسے عملاً صرف فلسطینیوں پر لاگو کرتی ہے، جبکہ انتہا پسند یہودی آبادکاروں کے خلاف اس کا اطلاق "تقریباً ناممکن” ہوگا۔ اسرائیلی قانونی اور سیکوریٹی ماہرین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اسرائیلی پارلیمان کی قانون سازی ان افراد پر کیسے لاگو کی جا سکتی ہے جو اسرائیلی شہری ہی نہیں ہیں — جو دیرینہ اسرائیلی پالیسی سے ایک بڑا انحراف ہے۔
یہ قانون مارچ میں کابینہ سے منظور ہوا تھا۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی پارلیمان نے ایک خصوصی فوجی عدالت کے قیام کی بھی منظوری دی جو ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے حملوں میں حماس کے ایلیٹ یونٹ کے ملزمان کے مقدمات چلائے گی۔
فلسطینی اور اسرائیلی انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق اس وقت ۹۶۰۰ سے زائد فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں، جن میں تقریباً ۳۵۰ بچے اور ۷۳ خواتین شامل ہیں۔ حقوق تنظیموں کا الزام ہے کہ قیدیوں کو اذیت، بھوک، طبی غفلت اور سخت حالات کا سامنا ہے۔
انسانی حقوق کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ قانون خطے میں کشیدگی مزید بڑھا سکتا ہے اور بین الاقوامی انسانی حقوق قوانین کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔

