واشنگٹن
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک نئے انتظامی حکم نامے کے ذریعے گرین کارڈ تجدید کے عمل میں بنیادی تبدیلی کر دی ہے۔ اب گرین کارڈ کی تجدید کے خواہاں زیادہ تر غیر ملکیوں کو امریکہ چھوڑ کر اپنے ملک واپس جانا ہوگا اور وہیں سے محکمہ خارجہ کے ذریعے درخواست دینی ہوگی۔
امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز (یو ایس سی آئی ایس) نے جمعہ کو اس نئی پالیسی کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ تمام درخواستوں کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے گا۔ ادارے کے ترجمان زیک کاہلر نے کہا کہ یہ پالیسی قانون کی اصل روح کے مطابق ہے اور ان غیر قانونی راستوں کو بند کرتی ہے جن کے ذریعے عارضی ویزوں پر آنے والے افراد مستقل رہائش حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب درخواست دہندگان اپنے ملک سے رجوع کریں گے تو درخواست مسترد ہونے کے بعد امریکہ میں غیر قانونی طور پر چھپ جانے کے واقعات میں بھی کمی آئے گی۔
تاہم انسانی حقوق اور پناہ گزین تنظیموں نے اس اقدام پر شدید تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پرتشدد اور جنگ زدہ ممالک سے فرار ہونے والے حقیقی پناہ کے متلاشیوں کی جان کو سنگین خطرہ لاحق ہو سکتا ہے کیونکہ انہیں انہی ممالک میں واپس بھیجا جا سکتا ہے جہاں سے وہ جان بچا کر نکلے تھے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے 2026 کے لیے سالانہ پناہ گزینوں کی قبولیت کی حد گھٹا کر صرف 7500 کر دی ہے اور جنوری 2025 سے پناہ گزین پروگرام غیر معینہ مدت کے لیے معطل ہے، جس کے باعث دسیوں ہزار افراد کا مستقبل تاریکی میں ہے۔ اس وقت تقریباً دو لاکھ افراد سرحدی کیمپوں اور امیگریشن حراستی مراکز میں پھنسے ہیں جن میں افغانستان، شام، وینزویلا اور جمہوریہ کانگو کے شہری سب سے زیادہ متاثر ہیں۔

