ایران جنگ کا معاشی ضرب: ۲۷ ممالک ورلڈ بینک سے ہنگامی فنڈز کی درخواست میں


نیویارک
ورلڈ بینک کی ایک اندرونی دستاویز، جسے خبررساں ادارے رائٹرز نے دیکھا ہے، انکشاف کرتی ہے کہ ایران جنگ کے اقتصادی جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے دنیا کے ۲۷ ممالک بحرانی فنڈ تک تیز رفتار رسائی کے طریقہ کار پر عمل پیرا ہیں۔ تاہم دستاویز میں نہ تو ان ممالک کے نام درج ہیں اور نہ ہی مطلوبہ فنڈز کی کل مقدار بتائی گئی ہے۔
دستاویز کے مطابق ۲۸ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے وقت تین ممالک پہلے ہی اس ہنگامی طریقہ کار کی منظوری دے چکے تھے جبکہ باقی ابھی اس عمل کو مکمل کر رہے ہیں۔ کینیا اور عراق نے سرکاری طور پر تصدیق کی ہے کہ وہ جنگ کے براہِ راست اثرات — کینیا میں ایندھن کی آسمان چھوتی قیمتوں اور عراق میں تیل کی آمدنی میں بھاری گراوٹ — سے نمٹنے کے لیے ورلڈ بینک سے مالی امداد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں شدید خلل پڑا ہے، سپلائی چین متاثر ہوئی ہے اور ترقی پذیر ممالک کو کھاد کی ترسیل میں سنگین رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔
یہ ۲۷ ممالک ان ۱۰۱ ممالک میں شامل ہیں جن کے پاس پہلے سے ترتیب شدہ مالیاتی آلات موجود ہیں، جن میں ۵۴ ممالک ایسے ہیں جنہوں نے ریپڈ ریسپانس آپشن اختیار کیا ہوا ہے جو انہیں غیر تقسیم شدہ بجٹ کا ۱۰ فیصد فوری طور پر استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ بینک کا بحرانی ٹول کٹ ممالک کو ۲۰ سے ۲۵ ارب ڈالر تک فوری رسائی فراہم کر سکتا ہے اور پورٹ فولیو میں ردوبدل کے ذریعے یہ رقم چھ ماہ میں ۶۰ ارب ڈالر اور طویل مدت میں ۱۰۰ ارب ڈالر تک پہنچائی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے توقع ظاہر کی تھی کہ ایک درجن ممالک ۲۰ سے ۵۰ ارب ڈالر کی امداد طلب کریں گے، تاہم ذرائع کے مطابق اب تک بہت کم باقاعدہ درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور بیشتر ممالک صورتِ حال کو دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ممالک آئی ایم ایف کے بجائے ورلڈ بینک کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ آئی ایم ایف کی شرائط میں کفایت شعاری کے اقدامات شامل ہوتے ہیں جو پہلے سے سماجی بے چینی کا شکار ممالک میں حالات مزید خراب کر سکتے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ