واشنگٹن — سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن نے اپنے والد کی طبیعت کے بارے میں بتایا ہے کہ پروسٹیٹ کینسر جسم کے دیگر حصوں تک پھیل گیا ہے اور اُنہیں شدید تکلیف کا سامنا ہے۔ ہنٹر نے کہا کہ یہ تشخیص خاندان کے لیے انتہائی مشکل رہی۔
ہنٹر بائیڈن نے بی بی سی کو دیے گئے ایک مفصل انٹرویو میں جذباتی انداز میں بتایا کہ کینسر بائیڈن کی ہڈیوں تک پہنچ گیا ہے، جس کی وجہ سے انہیں شدید درد ہوتا ہے اور وہ کئی حوالوں سے کمزور محسوس کرتے ہیں۔ ہنٹر نے کہا کہ والد کی نگہداشت اور اُن کی دیکھ بھال کرنا خاندان کے لیے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
واضح رہے کہ جو بائیڈن ۸۳ سال کی عمر میں صدر بننے والے سب سے عمر رسیدہ امریکی رہنما تھے، اور ان کی صحت گزشتہ کئی عرصے سے زیرِ بحث رہی ہے۔ بائیڈن اور ان کے وائٹ ہاؤس مشیروں پر بارہا اپنی صحت کے معاملات چھپانے کے الزامات لگتے رہے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب انہوں نے ۲۰۲۴ کے صدارتی انتخابات میں دوبارہ حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ جون ۲۰۲۴ میں ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف ایک مباحثے میں خراب کارکردگی اور ڈیموکریٹس کے دباؤ کے بعد بائیڈن نے صدارتی دوڑ سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں ٹرمپ نے نائب صدر کملا ہیرس کو شکست دی۔
یاد رہے کہ بائیڈن نے گزشتہ سال مئی میں اپنے کینسر کی تشخیص کا اعلان کیا تھا، جو وہ وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے چار ماہ کے اندر سامنے آیا تھا۔ فی الحال بائیڈن یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردِ عمل موصول نہیں ہوا۔

