واشنگٹن/تہران: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ ایرانی اعلیٰ حکام نے براہِ راست انہیں فون کر کے امریکی بمباری فوری طور پر روکنے کی درخواست کی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی آپریشن میں ۴۹ ٹوماہاک کروز میزائلوں کے ساتھ جنگی طیاروں کو بھی شامل کیا گیا، جنہوں نے ایران کے ریڈار اور فضائی دفاعی نظاموں کو نشانہ بنایا۔ حملوں کا ہدف تہران سے تقریباً ۴۰ میل دور اور خلیج فارس کے ساحلی علاقے تھے۔ صدر ٹرمپ نے متنبہ کیا کہ اگر مفاہمت نہ ہوئی تو بمباری اگلی رات بھی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران نے ٹرمپ کے اس دعوے کو سراسر جھوٹ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے ایک اعلیٰ اہلکار کے حوالے سے کہا کہ یہ بیانات امریکی پسپائی کو چھپانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔
ادھر ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) نے آبنائے ہرمز کو تمام آئل ٹینکرز اور تجارتی بحری جہازوں کے لیے فوری طور پر مکمل بند کرنے کا اعلان کر دیا، اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔ پاسداران کی فضائیہ کے کمانڈر سیّد مجید موسوی نے کہا کہ اگر امریکہ نے آبنائے ہرمز کو غیر محفوظ بنایا تو پورا خطہ امریکہ کے لیے جہنم بن جائے گا۔
پاسداران نے یہ بھی بتایا کہ کویت کے اڈوں علی السالم اور احمد الجابر اور بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئر بیس سمیت ۱۸ امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا نے بندرعباس، میناب، جاسک، قشم اور سیرک میں بڑے پیمانے پر دھماکوں اور فضائی دفاعی سرگرمیوں کی اطلاع دی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے بھی ایران کے اندر متعدد فوجی اہداف پر حملوں کی تصدیق کی ہے۔

