ٹرمپ نے ایران پر نئے حملوں کا حکم دیا؛ ایران کا اسرائیلی، امریکی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا عزم

INQ 20260529 184021 0000 d


واشنگٹن/تہران/ماسکو/عمان — 2 اگست 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی حملوں کے ایک نئے دور کے منصوبوں کو منظوری دے دی ہے جو اسی ہفتے کے آخر میں شروع ہوسکتے ہیں۔ یہ رپورٹ دی وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے دی۔ کیمپ ڈیوڈ میں کابینی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران پر بہت سخت حملہ کرنے جا رہا ہے اور ایران ایک ایسے مقام پر پہنچ جائے گا جہاں وہ اسے مزید برداشت نہیں کر سکے گا۔
سی بی ایس نیوز نے متعدد ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل، ایران کے پاور پلانٹس اور ریفائنریز سمیت توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی ممکنہ بمباری مہم کی تیاری کر رہے ہیں، اور یہ حملے ممکنہ طور پر ویک اینڈ کے دوران ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت تک ٹرمپ نے حتمی منظوری نہیں دی تھی۔ پنٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنیل نے اہداف کی تصدیق سے گریز کیا، مگر کہا کہ حکمتِ جنگ مکمل تیار ہے۔ سی بی ایس کے مطابق اگر حملے کی اجازت ملی تو یہ پیر کو مارکیٹوں کے دوبارہ کھلنے سے پہلے مکمل ہو سکتے ہیں۔
ایران کا سخت جواب دینے کا عزم: ایران نے خبردار کیا ہے کہ نئے حملے کی صورت میں وہ اسرائیل کے اہم انفراسٹرکچر اور خطے میں امریکی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔ ایک سینئر ایرانی سلامتی اہلکار نے تسنیم نیوز ایجنسی کو بتایا کہ تہران نے وسیع ردعمل کے منصوبے تیار کر رکھے ہیں اور ان پر عمل کیلئے ”مکمل طور پر تیار“ ہے۔
روس کی ایران کو سیٹیلائٹ انٹیلیجنس کی فراہمی: این بی سی نیوز کے مطابق روس ایران کو سیٹیلائٹ نگرانی اور سگنلز ڈیٹا سمیت الیکٹرانک انٹیلیجنس فراہم کر رہا ہے، جو ایران کے فضائی دفاع اور ڈرون و میزائل حملوں کی درستگی بہتر بنا سکتا ہے۔ روس و ایران نے تبصرہ نہیں کیا۔
اردن میں امریکی سفارت خانے کی وارننگ: عمان میں امریکی سفارت خانے نے سیکورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے پرواز منسوخی، فضائی حدود کی بندش اور سفری رکاوٹوں سے خبردار کیا، اور امریکیوں کو فوجی اڈوں و بڑے اجتماعات سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔

متعلقہ پوسٹ