تہران (خصوصی نامہ نگار) — ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے اعلان کیا ہے کہ تہران سفارتی حل کے لیے تیار ہے، تاہم مذاکرات کا مطلب ہرگز ہتھیار ڈالنا نہیں ہوگا۔
صدر پیزشکیان نے واضح کیا کہ "ایران قومی مفادات اور عوام کے حقوق کے دفاع سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔”
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران بات چیت کا خیرمقدم کرتا ہے، مگر کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے سامنے جھکنا ایران کی پالیسی نہیں۔ تہران کا مؤقف ہے کہ سفارت کاری باہمی احترام اور مساوی بنیادوں پر ہونی چاہیے، نہ کہ طاقت کے زور پر مسلط شرائط پر۔
یہ بیان ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان جوہری پروگرام سمیت دیگر علاقائی تنازعات پر بڑھتی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔

