ایران-امریکہ امن معاہدہ حتمی مراحل میں، جلد اعلان کی امید


واشنگٹن / تہران —
ایران اور امریکہ کے درمیان تاریخی امن معاہدے پر مذاکرات حتمی مراحل میں داخل ہوگئے ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان اہم امور پر اتفاق رائے قائم ہوگیا ہے۔
نئی دہلی میں موجود امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آئندہ چند گھنٹوں میں "خوش خبری” کی امید ظاہر کی ہے، جبکہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ مذاکرات تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم انہوں نے اپنے نمائندوں کو جلد بازی سے گریز کی ہدایت کی ہے۔
مجوزہ معاہدے کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے بغیر کسی ٹول ٹیکس کے کھول دے گا، یورینیم افزودگی محدود کرے گا اور جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری رکھے گا۔ اس کے بدلے میں امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر پابندیاں نرم کرے گا، اقتصادی پابندیوں میں نرمی دے گا جس سے ایران عالمی منڈی میں آزادانہ تیل فروخت کر سکے گا، اور تہران کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران جس رفتار سے آبنائے ہرمز کھولے گا، اسی رفتار سے پابندیاں نرم کی جائیں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے ایرانی معیشت کے ساتھ ساتھ عالمی تیل مارکیٹ میں بھی استحکام آئے گا۔

متعلقہ پوسٹ