وائٹل گروپ کو ایک فلاحی مشورہ اور مخلصانہ اپیل

IMG 20260401 WA04791 3

کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی

​سماجی خدمت کا تصور صرف بھوک مٹانے تک محدود نہیں بلکہ اصل نیکی انسانی زندگیوں کی حفاظت کرنا اور معاشرتی مشکلات کا عملی مداوا کرنا ہے۔ وائٹل گروپ آف انڈسٹریز 1991 میں قائم ہونے والا ایک ایسا عظیم ادارہ ہے جس نے تین دہائیوں کے قلیل عرصے میں چائے، ریئل اسٹیٹ اور اشیائے خوردونوش جیسے شعبوں میں ایسی دھوم مچائی ہے کہ اس کے معیار کا ڈنکا آج نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بج رہا ہے اور یہ ادارہ اپنی بہترین ساکھ کے باعث ایک عالمی برانڈ کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ اگرچہ اس گروپ کا مرکزی ہیڈکوارٹر کراچی میں واقع ہے، تاہم ہمیں فخر ہے کہ اس عظیم ادارے کا ایک اہم صنعتی یونٹ ہمارے ضلع بہاولنگر کی تحصیل ہارون آباد میں بھی موجود ہے، جہاں سے یہ ادارہ نہ صرف مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کر رہا ہے بلکہ اپنی اعلیٰ معیار کی مصنوعات کے ذریعے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں ہمارے ملک کا نام روشن کر رہا ہے۔ ان کا دسترخوان معاشرے کے محروم اور ضرورت مند طبقات کے دکھ درد بانٹنے کا بہترین ذریعہ ہے جو کہ بلاشبہ ایک عظیم کارِ خیر ہے۔ تاہم، ایک ذمے دار صحافی کی حیثیت سے آج میں وائٹل گروپ کی انتظامیہ کے سامنے ایک ایسی تجویز پیش کر رہا ہوں جو نہ صرف ان کی فلاحی ساکھ کو نئی بلندیوں پر لے جائے گی بلکہ یہ اقدام معاشرے کے لیے ایک دیرپا نعمت بھی ثابت ہوگا۔ میری گزارش ہے کہ وائٹل گروپ اپنی فلاحی ترجیحات کا رخ حفاظتی مہم کی جانب موڑ دے، یعنی اس بجٹ سے معیاری ہیلمٹ بنوائے جائیں اور انہیں باقاعدہ طور پر غریب عوام میں تقسیم کیا جائے۔ آج کی بڑھتی ہوئی ٹریفک میں یہ ہیلمٹ محض ایک حفاظتی شے نہیں، بلکہ ایک ایسی ڈھال ہے جو کسی کے گھر کے چراغ کو بجھنے سے بچا سکتی ہے۔ حق یہ ہے کہ ایک فلاحی ادارے کی نظر اس درد پر بھی ہونی چاہیے جو سڑکوں پر بہنے والے لہو کی صورت میں قوم کو ملتا ہے، کیونکہ بھوک مٹانا اگر خدمت ہے تو جان بچانا عین عبادت ہے۔ اس ضرورت کو ایک تلخ حقیقت سے سمجھیں کہ کل ہی ایک محنت کش سے ملاقات ہوئی جو دن بھر کی مشقت کے بعد خالی ہاتھ گھر لوٹ رہا تھا، کیونکہ اس کی کمائی ٹریفک چالان کی نذر ہو چکی تھی۔ اس شخص کی آنکھوں میں آنسو تھے کہ اب وہ اپنی بیٹی کے علاج کے اخراجات کیسے پورے کرے گا؟ یہ کہانی صرف ایک فرد کی نہیں، بلکہ ہر اس محنت کش کی ہے جو مہنگا ہیلمٹ خریدنے کی سکت نہیں رکھتا اور حادثات کے ساتھ ساتھ پولیس کے جرمانوں کی چکی میں پس رہا ہے۔ اگر وائٹل گروپ یہ ذمہ داری اٹھا لے تو اس کے تین بڑے ثمرات ہوں گے؛ اول انسانی جانوں کا تحفظ، دوم غریب خاندانوں کو جرمانوں کے مالی بوجھ سے نجات، اور سوم وائٹل گروپ کی بے مثال مقبولیت۔ جب سڑکوں پر ہر شخص وائٹل گروپ کا ہیلمٹ پہنے گا تو یہ برانڈ صرف ایک تجارتی نام نہیں بلکہ ‘زندگی بچانے والا ادارہ’ بن کر ابھرے گا۔ یاد رکھیے، آپ کا دیا ہوا ہیلمٹ کسی محنت کش کے لیے محض ایک آلہ نہیں بلکہ اس کے گھر کے چراغ کی ضمانت ہوگا، اور قیامت کے روز جب جانیں بچانے کا حساب ہوگا تو آپ کا یہ عمل سب سے نمایاں ٹھہرے گا۔ وائٹل گروپ کی انتظامیہ سے پرزور التجا ہے کہ وہ اس دور اندیشی پر مبنی تجویز پر سنجیدگی سے غور کریں، کیونکہ معاشرے میں وہی ادارے تاریخ میں زندہ رہتے ہیں جو بدلتے وقت کے ساتھ اپنی فلاحی ترجیحات کو عوام کی حقیقی ضرورتوں کے مطابق ڈھالتے ہیں۔ مجھے قوی امید ہے اور مکمل یقین ہے کہ وائٹل گروپ کی انتظامیہ اس تجویز پر ضرور غور کرے گی اور معاشرتی بہتری کے اس سفر میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ اللہ تعالیٰ ہماری اس کاوش کو قبول فرمائے، ہمیں انسانیت کی خدمت کی توفیق دے، اور اس اقدام کو ہمارے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین

متعلقہ پوسٹ