بعض کلمات کے ساتھ تقدس جڑ جاتا ہے اور بعض اعمال کے ساتھ جذباتی وابستگی ہو جاتی ہے۔ بعض واقعات ہماری زندگیوں میں مشعلِ راہ کا کام کرتے ہیں تو بعض مثالیں منزلوں کے تعین میں ممد و معاون ہو کر مہمیز کا کام کرتی ہیں۔ کبھی ایک لفظ پوری کہانی بیان کرتا ہے تو کبھی بعض فقرات پسِ پردہ قربانی، جذبات، احساسات اور داستان کے امین ہوتے ہیں۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ایسی مثالیں ہر طرف ملتی ہیں۔ انسانی معاشرے میں جہاں بات عقائد کی آجائے تو وہاں یہ وابستگی اور گہری ہوجاتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے کلمۂ توحید بلند کیا تو متلاشیانِ حق پُرخار وادیوں اور سنگلاخ زمینوں کو خاطر میں لائے بغیر کشاں کشاں کھنچے چلے آئے۔ رسم و رواج، معاشرتی تعلقات، رشتہ داریوں کی پروا کیے بنا پیادہ پا حاضر ہو گئے۔ کسی کا جسم لہولہان ہوا تو کسی کی روح کو چرکے دیے گئے۔ کسی کے سامنے اس کے پیاروں کو ذبح کیا گیا تو کئی خود جان کی بازی ہار گئے۔ کہیں ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے تو کہیں ہجرتوں کے داغ ان کے حصے میں آئے۔ کہیں جائیدادوں سے بےدخل کیے گئے تو کہیں رشتہ داریوں سے اظہارِ لاتعلقی ہوا۔
لیکن ان تمام مصائب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عشق و وفا کی مٹی سے گندھے ان مخلصین نے لبیک یا رسول اللہ ﷺ یعنی اے اللہ کے محبوب اور ہمیں دل و جان سے عزیز رسولِ خدا! ہم حاضر ہیں۔ ہماری جان و مال حاضر ہیں، ہماری عزتیں حاضر ہیں، سب کچھ آپ کے قدموں پر نچھاور ہے۔
لغتِ عرب میں لبیک کا لفظ بہت خوبصورت، بامعنی اور وسیع المطالب ہے۔ مشہور عربی لغات کے مطابق اس کا مفہوم کچھ یوں ہے:
اللَّبَّيْكَ: إِقامَةً على الطاعةِ بعدَ إِقامَةٍ، ومعناهُ: أَنا مُقيمٌ على طاعتِكَ إِقامةً بعدَ إِقامةٍ۔
یعنی: لبیک کا مطلب ہے بار بار فرمانبرداری کے ساتھ حاضر ہوں۔ میں تیری اطاعت پر قائم ہوں اور بار بار حاضر ہوں۔
لبَّيْكَ: أي إجابَةً بعدَ إجابَةٍ، وإِقامةً على الطاعةِ.
یعنی لبیک کہنا کوئی وقتی دعویٰ نہیں بلکہ ایک کے بعد دوسرے امر میں دل و جان سے اطاعت کے نمونے قائم کرتے چلے جانا ہی حقیقی معنوں میں لبیک کہنا ہے۔
اسی لئے جب صحابہ کرامؓ نے لبیک یا رسول ﷺ کہا تو اس کا مطلب یہی تھا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ، اے ہمارے محبوب! اب آپ بتائیں گے کہ ہمیں کیا کرنا ہے اور ہم وہ سب کچھ سمعنا و اطعنا کہتے ہوئے کرتے چلے جائیں گے۔ جہاں سے آپ ہمیں روکیں گے وہاں بھولے سے بھی قدم نہ رکھیں گے۔ اگر آپ ہمیں پہاڑوں سے ٹکرانے کا حکم دیں گے تو ہم ان سے اس طرح ٹکرا جائیں گے کہ پہاڑوں کی ہمت چھوٹی پڑ جائے گی لیکن ہم نہ تھکیں گے نہ ماندہ ہوں گے۔ سمندر میں کودنے کا حکم دیں گے تو بخوشی اس میں کود جائیں گے۔ لہروں کی روانی اور سمندر کی طغیانی ہمارے آگے روک نہ بن سکے گی۔
پھر تاریخ گواہ ہے کہ یہ صرف وقتی اور جذباتی دعوے نہ تھے۔ یہ محض الفاظ کا ہیر پھیر نہ تھا۔ صحابہؓ نے لبیک یا رسول اللہ کے نعرہ پر اس سچائی کے ساتھ دل و جان اور جانفشانی سے پہرہ دیا کہ اپنا سب کچھ قربان کردیا۔ اس قدر اس پر قائم رہے کہ اس فقرے کے ساتھ ایک ایسا تقدس جڑ گیا کہ آنے والی نسلوں کے لئے یہ صرف دو لفظی نعرہ نہ رہا بلکہ عشق و وفا، اخلاص و قربانی کا استعارہ بن گیا۔
پھر یہی لبیک اللّٰہم لبیک کا کلمۂ اطہر رب العالمین کے حضور حاضری کے وقت دہرانے اور ساری عمر دہراتے چلے جانے کا حکم ہوا۔ کس قدر لازوال اور دلکش وہ منظر ہے جب بیت اللہ کے گرد دورِ رفتہ میں ہزاروں اور فی زمانہ لاکھوں افراد طواف کرتے ہوئے عشق و مستی سے بیک زبان بآوازِ بلند یہ کلمہ دہراتے جاتے ہیں۔ طوافِ بیت اللہ اور دربارِ عالی میں حاضری کے وقت ایسا اظہار لفظی و معنوی طور پر کس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ بندۂ عاجز و بےکس کا ہر قدم سابقہ آلائشوں سے پاک کرنے اور نئی زندگی عطا کرنے والا قرار پاتا ہے۔
لیکن صد افسوس کہ پھر اسی کلمۂ مطہر کے ساتھ اس عہدِ بےہنراں میں ہم نے وہ کھلواڑ ہوتے دیکھا کہ الاماں و الحفیظ۔ طفلانِ کوچہ و بازار نے اس کا تقدس اس قدر پامال کیا کہ یہ نعرہ سنتے ہی نفرتوں کے عفریت، تباہی و بربادی مچاتے دیوانوں اور جنونیوں کے ریوڑ، جہالت کے پتلے، اور شرفِ انسانیت کی تذلیل کرنے والے گروہ کا خاکہ نظروں کے سامنے آنے لگا۔ درایں حالات شرافت دبک کر بیٹھ گئی اور دہشت گلی کوچوں میں بےہودگی سے ناچنے لگی۔ نفرت و حقارت نے وہ کرتب دکھلائے کہ اس سے پہلے آسمان نے کم ہی دیکھے ہوں گے۔ وحشت کے سیلابِ تند و تیز کے آگے ہزاروں معصوم بہ گئے۔ سینکڑوں طلبہ کی تعلیم نامکمل رہی، بیسوں اساتذہ صرف الزام کی بنیاد پر مقدس پیشے سے بےدخل کئے گئے۔
’’بس وہ گستاخ تھا‘‘ کہہ کر کئی معصوم مارے اور جلائے گئے۔ طلبہ نے اساتذہ کو مارا تو کہیں طالبات کے ہاتھوں استانی ذبح ہو گئی۔ عبادت گاہوں کو جلایا گیا اور سینکڑوں قبروں کی بےحرمتی کی گئی۔
ایک لبیک یا رسول اللہ کا نعرہ پندرہ سو سال پہلے لگا تھا اور ایک آج لگایا گیا۔ وہاں اپنی اصلاح پر زور تھا، یہاں ڈنڈے کے زور پر دوسروں کی اصلاح کرنے کی خود ساختہ ڈیوٹی اپنا لی گئی۔ وہاں اپنے اموال کی قربانی راہِ مولیٰ میں کی گئی، یہاں دوسروں کے اموال لوٹ کر اور جلا کر خود کو عاشقِ رسول ثابت کرنے کی ٹھان لی گئی۔ وہاں یہودیوں کے جنازے کی بھی حرمت قائم کی گئی، یہاں مسلمان کی نعشیں قبروں سے باہر پھینکی گئیں۔ وہاں منافقین کے جنازے پر بھی رسولِ خدا ﷺ نے جا کر اپنا رحمت للعالمین ہونا واضح کیا، یہاں مسلمانوں کے جنازے بھی روک کر خود کو نبیِ رحمت کے نام پر دھبہ ثابت کیا گیا۔
وہاں چھوٹی سے چھوٹی نیکی کے لئے مسابقت کی روح قائم تھی، یہاں بڑی سے بڑی برائی اور جہالت کے لئے مقابلہ بازی کی گئی۔ وہاں ہر کوشش معاشرے میں قیامِ امن کی طرف لے جانے والی تھی، یہاں ہر عمل لاقانونیت، بےچینی، تباہی پھیلانے والا بنا۔ وہاں غیر مسلم بوڑھوں، بچوں اور عورتوں سے حالتِ جنگ میں بھی تعرض نہ کیا گیا، یہاں حالتِ امن میں اپنے ہی بھائی بندوں کا جینا حرام کر دیا گیا۔ وہاں ایک زندگی کو بچانا گویا عالمِ کل کو بچانے کا قائم مقام ٹھہرا، یہاں انسانیت کے مسیحا ڈاکٹروں کو ہی دن دہاڑے خون میں نہلا دیا گیا۔
وہاں شرافت کا معیار راستوں کے حقوق ادا کرنا ٹھہرا، یہاں راستوں کو بند کرکے مریضوں، ناداروں، مجبوروں کو بے انتہا تکلیف پہنچا کر اپنی ازلی اخلاقی پستی پر مہرِ تصدیق ثبت کی گئی۔
یہ کہاں کا عشق تھا؟ یہ کیسا لبیک یا رسول اللہ تھا جہاں نہ اللہ کی اطاعت، نہ رسول کی سچی پیروی۔ انسانیت کا احترام نہ عبادت گاہوں کی حرمت۔ زندوں کے حقوق کا قیام نہ مردوں کو چین لینا دیا گیا۔
صحابہ رسولؓ نے لبیک کا نعرہ لگایا تو خدمتِ انسانیت کے لئے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لئے لبیک کہا تھا۔ عبادات میں ایک سے بڑھ کر ایک مثال قائم کرنے کے لئے اسوۂ رسول پر لبیک کہا تھا۔ مالی قربانی کے اعلیٰ ترین نمونے قائم کرنے کے لئے لبیک کہا تھا۔ پھر اس کی تصدیق کے لئے کوئی گھر سے اپنا آدھا سامان اٹھا لایا تو کسی نے اللہ اور رسول کے نام کی عزت کی خاطر سارا گھر خالی کردیا۔
ہاں، کہا تھا صحابہؓ نے لبیک یا رسول ﷺ۔ انہوں نے اپنے کھیسے خالی کرکے مال و دولت کو راہِ مولیٰ میں قربان کرنے کے لئے کہا تھا لبیک یا رسول اللہ۔ ہمسایوں کے حقوق ادا کرنے، معاشرے میں قیامِ امن کے لئے کہا تھا لبیک یا رسول ﷺ۔ دوسروں کی عبادت گاہوں کے احترام کے لئے، بوڑھوں اور بچوں کی حفاظت کے لئے، عورتوں کی عزت محفوظ کرنے کے لئے کہا تھا لبیک یا رسول اللہ۔ اپنی جانیں پیش کرکے، رسولِ خدا کے پسینے کی جگہ اپنا خون بہانے کا عزم کرکے دل و جان سے کہا تھا لبیک یا رسول اللہ ﷺ۔ رشتہ داریاں، تعلقات، محبتیں تیاگ کر، ماں باپ چھوڑ کر، اولادیں قربان کرکے اخوت کی بہارِ نو کی بنیاد ڈالنے کے لئے کہا تھا لبیک یا رسول اللہ ﷺ۔ گھر بار چھوڑ کر، وطنوں سے بےدخل ہوکر، ہجرت کے داغ سینوں پر سجا کر اور ثباتِ قدم دکھانے کے لئے کہا تھا لبیک یا رسول اللہ۔
ابد الآباد تک ان دیوانوں پر رحمتِ خداوندی ہوتی رہے کہ انہوں نے جو کہا وہ کر دکھایا۔
اور فی زمانہ اپنے سیاسی، ذاتی اور دیگر مفادات کی خاطر لبیک یا رسول ﷺ جیسے کلمۂ مقدس کو بےجا داغدار کرنے کی کوشش کرنے والے گروہ اور ان کے سہولت کاروں نے نبیِ رحمت ﷺ کے نامِ اطہر کو جس بےقدری اور بےدردی سے استعمال کیا ہے، کاش آئندہ ایسا کوئی ناسور معاشرے میں پھر پیدا نہ ہو۔
اگر رحمت للعالمین کی طرف خود کو منسوب کرنا ہے تو پھر اتباع بھی اسی مقدس نقشِ پا کی کرنا ہوگی کیونکہ:
اس کی آل وہی جو اس کے نقش قدم پر جائے
صرف ذات کی ہم نے آلِ سادات نہیں دیکھی
۲۱ نومبر ۲۰۲۵

