تحریر: سلمیٰ ملک
آج کا معاشرہ ایک عجیب دوڑ میں شامل ہو چکا ہے۔ اس دوڑ میں نہ سمت واضح ہے، نہ منزل۔ اقدار پیچھے رہ گئی ہیں اور آزادی کے نام پر ایسی روشوں کو فروغ دیا جا رہا ہے جو فرد نہیں بلکہ پورے سماج کو کھوکھلا کر رہی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ عورت آزاد ہو یا نہ ہو، اصل سوال یہ ہے کہ آزادی کی تعریف کیا ہے؟
ہم نے آزادی کو بے لگام طرزِ زندگی، بے پردگی، بے باکی اور ہر حد کو پار کرنے کا نام دے دیا ہے۔ حالانکہ حقیقی آزادی وہ ہے جو انسان کو باوقار بنائے، نہ کہ اسے محض نمائش کا سامان بنا دے۔
یہ کہنا ناانصافی ہوگی کہ بڑھتی ہوئی بے حیائی کی ذمہ دار صرف عورت ہے۔ مرد، خاندان، تعلیمی ادارے، میڈیا اور مجموعی سماجی نظام — سب اس بگاڑ میں برابر کے شریک ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ہم اصلاح کے بجائے الزام تراشی کو آسان راستہ سمجھ بیٹھے ہیں۔
میڈیا، خصوصاً سوشل میڈیا، نے حیا کو دقیانوسیت اور شرم کو کمزوری بنا کر پیش کیا۔ ایسے میں نئی نسل کنفیوژن کا شکار ہے کہ وہ اقدار اپنائے یا وہ رجحانات جنہیں ترقی کا نام دیا جا رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ کردار ثانوی ہو گیا اور ظاہری آزادی اولین ترجیح بن چکی ہے۔
خاندانی نظام، جو کبھی ہماری شناخت تھا، آج خود عدم توجہی کا شکار ہے۔ ماں باپ مصروف ہیں، اولاد اسکرینوں کے حوالے کر دی گئی ہے، اور تربیت کی جگہ وقتی آزادی نے لے لی ہے۔ ایسے میں اگر اخلاقی زوال بڑھ رہا ہے تو حیرت کی بات نہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ عورت کو تعلیم، ملازمت اور رائے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ اسلام اور مشرقی اقدار اس سے نہیں روکتیں، بلکہ عورت کو عزت، تحفظ اور مقام دیتی ہیں۔ مگر آزادی اور بے راہ روی میں ایک باریک مگر واضح فرق ہے، جسے نظر انداز کرنا اجتماعی خودکشی کے مترادف ہے۔
مردوں کو بھی اپنی ذمہ داری سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ نظریں نیچی رکھنا، عزت دینا اور کردار کی پاکیزگی کا مظاہرہ کرنا صرف عورت پر فرض نہیں۔ جب مرد خود حدود توڑتا ہے تو عورت کو موردِ الزام ٹھہرانا کھلی منافقت ہے۔
حل کسی پابندی، جبر یا زبردستی میں نہیں بلکہ شعور، تربیت اور مثال میں ہے۔ ہمیں عورت کو روکنے نہیں بلکہ سمجھانے کی ضرورت ہے، اور مرد کو حکم دینے نہیں بلکہ خود عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
اگر ہم نے آج اقدار کو سنبھال نہ لیا تو کل صرف آزادی بچے گی، انسان نہیں۔

