تحریر: سینئر صحافی عارف انیس
ایران، امریکہ، اسرائیل جنگ میں پوری دنیا میں اگر ایک شخص نے اپنی لیڈرشپ سے متاثر کیا ہے تو وہ سپینش پرائم منسٹر سانچیز ہیں جنہوں نے فلسطین اور ایران کی کھل کر سپورٹ کی اسرائیل اور امریکہ کو بھرپور تابڑ توڑ مکے مارے، حتیٰ کہ دنیا کے باقی لیڈر بھی ان کے ساتھ آن ملے. اب اگر اطالوی وزیر اعظم امریکہ کی جنگ کو غیر قانونی قرار دے رہی ہیں. آج برطانوی وزیر اعظم سٹارمر نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے لیے امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کیا تو اس کا کریڈٹ بھی سانچیز کو جاتا ہے.
29 فروری 1972 کو پیدا ہونے والا آدمی۔ لیپ ایئر بیبی۔ ہر چار سال میں ایک بار سالگرہ۔ جیسے قسمت نے شروع سے بتا دیا تھا کہ یہ عام قواعد پر نہیں چلے گا۔
پیدرو سانچیز پیریز کاستیخون۔ ہسپانوی وزیر اعظم۔ چھ فٹ تین انچ لمبا۔ اتنا لمبا کہ ہر عالمی اجلاس کی گروپ فوٹو میں سر سب سے اوپر نظر آتا ہے۔ مگر قد سے زیادہ اس آدمی کا حوصلہ لمبا ہے۔ 28 فروری 2026 کو جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو جن مغربی رہنماؤں نے فوری جواب دیا ان میں ایک نام تھا جو کسی نے توقع نہیں کیا تھا: ہسپانیہ کا وزیر اعظم۔ اس نے کہا: "ہسپانوی حکومت کا موقف چار الفاظ میں ہے: نو ٹو اے وار۔”
چار الفاظ۔ No a la guerra۔ ناتو کا رکن۔ یورپی یونین کا رکن۔ ٹرمپ کا اتحادی۔ مگر جنگ کے خلاف۔ برطانیہ خاموش تھا۔ فرانس ابہام میں تھا۔ جرمنی کے چانسلر فریڈرش مرتز نے دلیل دی تھی کہ "بین الاقوامی قانون ایران پر لاگو نہیں ہوتا۔” اور ہسپانیہ نے کہا: "جنگ بالکل بھی نہیں چاہیے۔” بالکل وہی الفاظ جو 2003 میں عراق جنگ کے خلاف لاکھوں ہسپانویوں نے میڈریڈ کی سڑکوں پر بلند کیے تھے۔
مگر سانچیز نے صرف الفاظ نہیں کہے۔ عمل کیا۔ ہسپانیہ کے جنوب میں دو مشترکہ فوجی اڈے ہیں، روتا اور مورون، جو امریکہ کے ساتھ چلائے جاتے ہیں۔ سانچیز نے ان اڈوں سے ایران کے خلاف کارروائی کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ فلائٹ ریکارڈز سے پتا چلا کہ جنگ کے پہلے ہفتے کے آخر میں کم از کم 15 ہوائی ایندھن بھرنے والے طیارے ان اڈوں سے اڑے مگر ایران کے خلاف کارروائی میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ملی۔ پھر سانچیز نے پورا ہسپانوی فضائی حدود جنگ سے منسلک امریکی طیاروں کے لیے بند کر دیا۔
ٹرمپ بھڑک اٹھا۔ ہسپانیہ کو "خوفناک ساتھی” کہا۔ "ہسپانیہ سے تمام تجارت ختم کر دیں گے” کا اعلان کیا۔ "ہم ہسپانیہ سے کوئی واسطہ نہیں رکھنا چاہتے” کہا۔ سانچیز اگلی صبح کیمروں کے سامنے آیا۔ ذرا بھی ڈرا ہوا نہیں لگتا تھا۔ بولا: "ہم بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا انکار کرتے ہیں جو ہم سب کی، خصوصاً شہری آبادی کی حفاظت کرتا ہے۔”
یہ آدمی کون ہے جو دنیا کی سب سے بڑی طاقت کو "ابسالیوٹلی ناٹ ” کہنے کی جرات رکھتا ہے؟
میڈریڈ کے تیتوان محلے میں پلا بڑھا۔ باپ سرکاری ادارے کا منتظم تھا، ماں سول سروس میں تھی۔ نوجوانی میں باسکٹ بال کھیلتا تھا۔ سی بی ایسٹودیانتیس کی یوتھ ٹیم میں اکیس سال کی عمر تک کھیلا۔ عرب نیوز نے اس کی خودنوشت "ریزسٹنس مینوئل” سے اقتباس دیا: "میں نے سیکھا ہے کہ ریفری کی آخری سیٹی بجنے تک خود کو آگے دھکیلتا رہوں۔” باسکٹ بال چھوڑ کر معاشیات پڑھی۔ پھر برسلز گیا۔ اقوام متحدہ کے بوسنیا مشن میں کارلوس ویسٹن ڈارپ کی ٹیم میں کام کیا۔ بوسنیا نے اسے سکھایا کہ جنگ کیا ہوتی ہے۔ اسی تجربے نے بعد میں ایران جنگ کے خلاف موقف کی بنیاد رکھی۔
2014 میں ہسپانوی سوشلسٹ ورکرز پارٹی کا سربراہ بنا۔ 2016 میں اپنی ہی پارٹی نے نکال دیا۔ آٹھ ماہ بعد واپس آیا۔ پارٹی ارکان نے ووٹ ڈال کر دوبارہ سربراہ چنا۔ 2018 میں ماریانو راخوئی کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ جیتا۔ ہسپانوی تاریخ میں پہلی بار کسی وزیر اعظم کو اس طرح ہٹایا گیا۔ سانچیز وزیر اعظم بن گیا۔ تین بار حکومت بنائی۔ ہر بار اقلیتی اتحاد سے۔ ہر بار کہا گیا "اب ختم” اور ہر بار واپس آیا۔ عرب نیوز نے اسے "سیاسی بقا کا ماہر” کہا۔ مدرید کی کمپلوتینسے یونیورسٹی کی سیاسی سائنسدان پالوما رومان نے کہا: "اس کے لیے کبھی آسان نہیں رہا مگر اس کے پاس ایک سیاسی حس ہے جو مشکل ترین حالات سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈ لیتی ہے۔”
2024 میں جب عدالت نے اس کی بیوی بیگونیا گومیز کے خلاف اثر و رسوخ کے غلط استعمال کی تحقیقات کا اعلان کیا تو سانچیز نے ایکس پر چار صفحے کا خط لکھا: "مجھے رکنا ہے اور سوچنا ہے۔” پانچ دن غائب رہا۔ استعفے کی افواہیں اڑیں۔ ہزاروں لوگ پارٹی ہیڈکوارٹرز کے باہر جمع ہو گئے۔ سانچیز واپس آیا۔ استعفیٰ نہیں دیا۔ بولا: "یہ دائیں بازو کا بنایا ہوا سستا ڈرامہ ہے۔” ایل پائیس، ایل ڈیاریو اور لا وانگوارڈیا نے مشترکہ تحقیقات میں انکشاف کیا کہ 2014 سے پی پی پارٹی سانچیز اور اس کی بیوی کے رشتہ داروں کی جاسوسی کر رہی تھی تاکہ اسے "سیاسی طور پر ختم” کر سکے۔
یہ وہ آدمی ہے جو مرتا نہیں۔ باسکٹ بال کی زبان میں: آخری سیٹی تک کھیلتا ہے۔
اب ایران جنگ میں اس کا کردار دیکھیں۔
سانچیز نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے جو الفاظ استعمال کیے وہ کسی اور مغربی رہنما نے نہیں کہے: "جنگ بندی ہمیشہ اچھی خبر ہوتی ہے۔ خصوصاً اگر منصفانہ اور پائیدار امن کی طرف لے جائے۔ مگر یہ لمحاتی سکون ہمیں افراتفری، تباہی اور ضائع ہونے والی زندگیوں کو بھلا نہیں سکتا۔ ہسپانیہ کی حکومت ان لوگوں کی تعریف نہیں کرے گی جو دنیا کو آگ لگا کر بالٹی لے کر آئیں۔”
"دنیا کو آگ لگا کر بالٹی لے کر آنے والوں” کو تالی نہیں بجائیں گے۔ یہ جملہ براہ راست ٹرمپ پر ہے۔ اور اس جملے میں وہ جرات ہے جو برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے نہیں دکھائی۔
یاد رہے کہ 2003 میں ہسپانیہ نے عراق جنگ میں حصہ لیا تھا۔ 1300 فوجی بھیجے۔ 11 مارے گئے۔ مگر اصل قیمت بعد میں آئی: مارچ 2004 میں مدرید کی ٹرینوں میں بم دھماکے ہوئے۔ 193 لوگ مارے گئے۔ ہسپانوی بائیں بازو نے ان حملوں کو عراق جنگ میں شرکت کا نتیجہ سمجھا۔ وہ زخم اب تک تازہ ہے۔ اسی زخم نے سانچیز کو بنایا ہے۔
سانچیز نے پارلیمنٹ میں کہا: "2003 میں بھی اور 2026 میں بھی، ہسپانیہ ہمیشہ جنگ کو نہیں کہے گا۔” پھر سابق وزیر اعظم خوزے ماریا اتھنار پر حملہ کیا جس نے 2003 میں ہسپانیہ کو عراق جنگ میں گھسیٹا تھا: "اس نے ہمیں جنگ میں اس لیے گھسیٹا کیونکہ وہ اہم محسوس کرنا چاہتا تھا اور امید رکھتا تھا کہ جارج بش اسے سگریٹ پینے کی دعوت دے گا۔”
پھر وہ ہوا جو کسی نے توقع نہیں کیا تھا۔ ایرانی میزائلوں پر سانچیز کی تصویر لگ گئی۔ یائی نیٹ نیوز (اسرائیلی) نے رپورٹ کیا کہ ایران سے تصاویر سامنے آئیں جن میں ایرانی میزائلوں پر سٹیکر لگے ہوئے تھے: "ایک غیر قانونی اور غیر انسانی جنگ۔ شکریہ وزیر اعظم سانچیز۔
سب سے شاندار بات یہ ہے کہ سانچیز کا موقف تنہا نہیں رہا۔ پھیل رہا ہے۔ اسی دن جب ہسپانیہ نے فضائی حدود بند کی، اٹلی کے وزیر دفاع گویدو کروزیتو نے کہا: "ہم نے اس جنگ کی حمایت نہیں کی اور کسی نے ہم سے رائے بھی نہیں پوچھی۔” پھر برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے کہا کہ برطانیہ "مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں گھسیٹا” نہیں جائے گا۔ سٹارمر نے آج کہا ہے کہ وہ ٹرمپ سے "تنگ آ گئے” ہیں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے انکار کردیا.
فارن پالیسی نے لکھا: "سانچیز کا موقف جو شروع میں ہسپانیہ کو یورپ میں تنہا کرتا نظر آتا تھا، اب پورے براعظم میں پھیل رہا ہے۔”
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سانچیز کا شکریہ ادا کیا: "ہسپانیہ کا ذمہ دارانہ رویہ صہیونی امریکی اتحاد کی کھلی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور فوجی جارحیت کے خلاف ظاہر کرتا ہے کہ مغرب میں ابھی بھی اخلاقیات اور بیدار ضمیر موجود ہیں۔”
ایرانی میزائلوں پر سانچیز کی تصویر لگی ہوئی ہے۔ ہسپانوی حزب اختلاف اسے "ایرانی پروپیگنڈے کا آلہ کار” کہتی ہے۔ ٹرمپ اسے "خوفناک ساتھی” کہتا ہے۔ مگر ہسپانیہ کے عوام کی اکثریت اس کے ساتھ ہے۔ یورپ آہستہ آہستہ اس کی طرف آ رہا ہے۔ اور بین الاقوامی قانون کا وہ حصہ جو ابھی زندہ ہے، اس آدمی کے کندھوں پر سانس لے رہا ہے۔
سانچیز نے ایران جنگ کو "لاکھوں زندگیوں کے ساتھ رشین رولیٹ کھیلنا” قرار دیا۔ پانچ ارب یورو کا پیکج منظور کیا تاکہ ایران جنگ سے متاثرہ ہسپانوی گھرانوں کو تحفظ ملے۔ اسرائیل سے سفیر واپس بلایا۔ سفارتی تعلقات کم کیے اور اسرائیل کو نسل کش ریاست قرار دیا.
باسکٹ بال کا وہ کھلاڑی جس نے 21 سال کی عمر میں پیشہ ورانہ کھیل چھوڑا، آج 54 سال کا ہے اور ایک بالکل مختلف کھیل کھیل رہا ہے۔ اس کھیل میں گیند نہیں، اصول داؤ پر ہیں۔ باسکٹ ایک نہیں، پوری دنیا ہے۔ اور ریفری کوئی نہیں ہے۔
مگر سانچیز ابھی بھی وہی اصول لاگو کر رہا ہے جو اس نے باسکٹ بال کورٹ پر سیکھا تھا: آخری سیٹی تک کھیلو۔ گر جاؤ تو اٹھو۔ نکالے جاؤ تو واپس آؤ۔ اور جب سب خاموش ہوں تو تم بولو۔
آج ایران جنگ کے سیاق و سباق میں پیدرو سانچیز وہ آواز ہے جو مغرب کا ضمیر بن گئی ہے۔ اتنی بڑی نہیں کہ جنگ روک سکے۔ مگر اتنی صاف کہ نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔ جب تاریخ لکھی جائے گی تو اس جنگ میں جن مغربی رہنماؤں نے "نہیں” کہا ان کی فہرست بہت مختصر ہو گی۔ اور اس مختصر فہرست میں سب سے پہلا نام وہ ہو گا جو 29 فروری کو پیدا ہوا تھا۔ لیپ ایئر بیبی۔ جسے سالگرہ ہر چار سال میں آتی ہے مگر جس کی جرات روزانہ نظر آتی ہے۔
ریسپکٹ!!!

