کراچی پورٹ، ہچسن ٹرمینل پر کارگو ہینڈلنگ وقت نصف سے بھی کم ہو گیا
ماحولیاتی بہتری کے لیے 1 میگاواٹ سولر سسٹم فعال کیا گیا ہے
کراچی پورٹ پر واقع ہچسن ٹرمینل نے کارکردگی میں نمایاں بہتری حاصل کرتے ہوئے بندرگاہی آپریشنز کو جدید خطوط پر استوار کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کارگو ہینڈلنگ کا وقت 50 گھنٹوں سے کم ہو کر صرف 24 گھنٹے رہ گیا ہے۔
حکام کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے بڑے بحری جہازوں کی تیز اور محفوظ ہینڈلنگ ممکن ہوئی ہے، جس سے نہ صرف شپنگ لائنز کے اخراجات میں واضح کمی آئی ہے بلکہ مجموعی لاجسٹکس نظام بھی زیادہ مؤثر ہو گیا ہے۔
ٹرمینل پر 22 ریموٹ کنٹرول RTGs اور 18 الیکٹرک ٹرکس فعال کیے جا چکے ہیں، جبکہ مستقبل میں مزید 20 الیکٹرک گاڑیوں کو شامل کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔
آپریشنز کو محفوظ اور مؤثر بنانے کے لیے کنٹینر ہینڈلنگ کا نظام جدید کنٹرول روم سے چلایا جا رہا ہے، جس کے باعث بلند مقامات پر کام کرنے کی ضرورت ختم ہو گئی ہے۔
سیکیورٹی اور آپریشنل نگرانی کو مزید بہتر بنانے کے لیے 30 جدید کیمروں کا نیٹ ورک بھی نصب کیا گیا ہے، جبکہ ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے ڈلیوری آرڈرز اور گیٹ پاس آن لائن جاری کیے جا رہے ہیں، جس سے کلیئرنگ ایجنٹس اور ٹرانسپورٹرز کا وقت اور لاگت دونوں کم ہوئے ہیں۔
بندرگاہی انفراسٹرکچر میں 720 میٹر وسیع ٹرننگ بیسن اور 16.5 میٹر گہرائی کی سہولت موجود ہے، جس کے باعث 400 میٹر سے بڑے جہازوں کی آمد و رفت آسان ہو گئی ہے۔
کنٹینر ہینڈلنگ گنجائش 65 ہزار TEUs تک پہنچ چکی ہے، جبکہ مصروف اوقات میں اس کا استعمال 85 فیصد تک جاتا ہے۔
ماحولیاتی بہتری کے لیے 1 میگاواٹ سولر سسٹم فعال کیا گیا ہے، جبکہ مزید 400 کلوواٹ شامل کرنے کا منصوبہ بھی جاری ہے۔ ادارے نے 2032 تک کاربن اخراج میں نمایاں کمی کا ہدف مقرر کیا ہے۔
ریلوے آپریشنز کے لیے ایسا یارڈ بھی موجود ہے جو بیک وقت تین ٹرینوں کو ہینڈل کر سکتا ہے، جبکہ اس کی مکمل استعداد مستقبل میں ML-1 اور ML-2 ریلوے منصوبوں کی تکمیل سے مزید بڑھنے کی توقع ہے۔

