غزہ میں امدادی اشیا کی ترسیل میں 33 فیصد اضافہ، اہم پابندیاں برقرار: اقوام متحدہ


نیویارک: اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ جولائی کے دوران غزہ میں داخل ہونے والی انسانی امداد میں جون کے مقابلے میں 33 فیصد اضافہ ہوا، تاہم امدادی سامان کی اقسام اور رسائی پر عائد اہم پابندیاں اب بھی برقرار ہیں، جبکہ علاقے میں انسانی ضروریات انتہائی بلند سطح پر ہیں۔
اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے صحافیوں کو بتایا کہ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار جولائی میں 55 ہزار سے زیادہ پیلیٹس امداد غزہ پہنچانے میں کامیاب رہے۔ یہ مقدار تقریباً 35 ہزار میٹرک ٹن، یا 2,600 ٹرکوں کے برابر ہے، جو فروری کے آخر میں علاقائی کشیدگی بڑھنے سے پہلے ریکارڈ کی گئی سطحوں کے قریب ہے۔
ان کے مطابق امدادی سامان میں تقریباً 60 فیصد خوراک شامل تھی، جبکہ باقی اشیا میں پناہ گاہ، پانی، صفائی، حفظانِ صحت اور طبی ضروریات کا سامان شامل تھا۔
فرحان حق نے تاہم خبردار کیا کہ امدادی شراکت داروں کے مطابق غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جانے والی اشیا کی اقسام پر پابندیاں بدستور موجود ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ امداد میں اضافے کے باوجود یہ ترسیل علاقے کی وسیع اور شدید انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں۔
مغربی کنارے میں نقصانات
اقوام متحدہ کے نائب ترجمان نے مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی۔ اقوام متحدہ اور اس کے انسانی ہمدردی کے شراکت داروں نے اسرائیلی فوج کی دو روزہ کارروائی کے بعد یروشلم کے قریب قلندیا کیمپ کا دورہ کیا۔
حق کے مطابق ٹیموں نے گھروں اور کاروباری مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہوا پایا۔ درجنوں خاندانوں نے بتایا کہ فوجی کارروائی کے دوران دروازوں، کھڑکیوں اور فرنیچر کو نقصان پہنچا، جبکہ کئی افراد نے نمایاں مالی خسارے کی بھی اطلاع دی۔
فلسطینی حکام کے مطابق اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں کم از کم 1,182 فلسطینی ہلاک، تقریباً 13,000 زخمی اور لگ بھگ 25,000 گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ