تہران — ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے حال ہی میں سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہای سے ایک اہم ملاقات کی، جس میں ملک کی موجودہ معاشی صورتحال، جنگی حالات، فوجی پیش رفت اور بین الاقوامی تعلقات سمیت دیگر حساس امور زیرِ بحث آئے۔ ایرانی حکام نے اس ملاقات کی تصاویر شائع نہیں کیں اور ملاقات کی تاریخ بھی باقاعدہ طور پر ظاہر نہیں کی گئی۔
حکام کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے عوام کی معاشی ضروریات، ایرانی ریال کی قدر، غیر ملکی زرِ مبادلہ، توانائی کے اخراجات اور دولت کے حصول کے طریقہ کار پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس کے علاوہ ایران-امریکہ اور ایران-اسرائیل کشیدگی، خطے میں جاری جنگی صورتحال، اور ممکنہ مستقبل کے منظرناموں پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ ملاقات میں غیر ملکی شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی روابط اور فوجی ترقی کے موضوعات پر بھی بات ہوئی۔
یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی جب صدر پزشکیان کے مستعفی ہونے کی افواہیں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں، جنہیں اُنہوں نے مسترد کیا تھا۔ صدر پزشکیان نے حال ہی میں کہا تھا کہ سپریم لیڈر تک رسائی مشکل ہے، جس کے بعد خامنہای کی صحت کے حوالے سے قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔ ایرانی حکام نے تاہم اعلان کیا ہے کہ خامنہای کی عوامی ملاقاتوں کی تصاویر مستقبل میں جاری کی جائیں گی مگر اس کا کوئی ٹائم لائن نہیں بتائی گئی۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ایران رواں سال فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں مصروف رہا، اگرچہ ابتدائی معاہدہ ناکام ہوا۔ ایران کے اعلیٰ سفارت کار کا کہنا ہے کہ موجودہ مرحلے میں بات چیت صرف ثالثوں کے ذریعے پیغامات کے تبادلے تک محدود ہے۔ اس پس منظر میں یہ اعلیٰ سطحی ملاقات خطے میں کشیدگی کی بڑھتی ہوئی صورتِ حال میں سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی کی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
پسِ منظر: صدر مسعود پزشکیان نے 2024ء کے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 5 جولائی کو کامیابی حاصل کی اور 6 جولائی 2024ء کو صدر منتخب ہوئے۔ انہیں 28 جولائی 2024ء کو باضابطہ طور پر سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہای نے صدر مقرر کیا تھا۔ ان کا انتخاب سابق صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہونے کے چند ماہ بعد عمل میں آیا تھا۔

