ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی صدارت کے تیسرے سال کے آغاز پر ان سے ملاقات کی ہے، جس میں ملک کی موجودہ معاشی صورتحال، جنگی حالات اور فوجی پیش رفت سمیت دیگر اہم امور پر گفتگو ہوئی۔ ایرانی حکام نے اس ملاقات کی تصویر جاری نہیں کی ہے۔
’ایکس‘ پر مجتبیٰ خامنہ ای نے گزشتہ شب مختلف بیانات جاری کیے اور بتایا کہ ملاقات کے دوران دونوں لیڈران نے ملک کے اقتصادی اور فوجی امور پر تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے بات چیت میں عوام کی معاشی ضروریات، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحانہ جنگی صورتِ حال اور مستقبل کے امکانات، فوجی پیش رفت، وسائل کے حصول اور ایرانی ریال، غیر ملکی زرِمبادلہ اور توانائی کے اخراجات کے انتظام کے طریقہ کار کے علاوہ غیر ملکی شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی روابط کے امور پر گفتگو کی۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب ایران اور امریکہ کے درمیان مزید کشیدگی کے امکانات بڑھ رہے ہیں، جبکہ امریکا ایران کے خلاف بلااشتعال جنگ میں اپنے اعلان کردہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، تاہم مذکورہ ملاقات کی تاریخ واضح نہیں کی گئی۔ یاد رہے کہ صدر مسعود پزشکیان نے حال ہی میں کہا تھا کہ اس وقت مجتبیٰ خامنہ ای سے رابطہ بہت مشکل ہے، جس کے بعد سپریم لیڈر کی صحت کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیوں نے جنم لیا تھا۔
خیال رہے کہ ایران رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے خاتمے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے، تاہم ابتدائی معاہدہ ناکام ہو گیا ہے، ایران کے اعلیٰ سفارت کار کے مطابق اب بات چیت ثالثوں کے ذریعے پیغامات کے تبادلے تک محدود ہے۔ گزشتہ روز ایرانی خبر ایجنسی نے پاسدارانِ انقلاب کے ایک جنرل کے حوالے سے بتایا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی عوام کے درمیان اور ملاقاتوں کے دوران بنائی گئی تصاویر مستقبل میں شائع کی جائیں گی، تاہم اس حوالے سے کوئی ٹائم لائن نہیں دی گئی تھی۔
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ۲۸ فروری کو ایران کے خلاف جنگ کا دوسرا مرحلہ شروع کرتے ہوئے اسلامی انقلاب کے سابق رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور حکام کو شہید کر دیا تھا۔ مسعود پزشکیان ۲۰۲۴ء کے صدارتی انتخابات کے ۵ جولائی کو ہونے والے دوسرے مرحلے میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد ۶ جولائی ۲۰۲۴ء کو صدر منتخب ہوئے تھے۔ انہیں ۲۸ جولائی ۲۰۲۴ء کو آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے باضابطہ طور پر صدر مقرر کیا تھا۔ ان کا انتخاب سابق صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہونے کے چند ماہ بعد عمل میں آیا تھا۔

