سینیٹ اجلاس میں عمران خان کی صحت پر شدید احتجاج، اپوزیشن کی سڑکوں پر احتجاج اور "گولیاں کھانے” کی دھمکی

IMG 20260212 WA2670


اسلام آباد (13 فروری 2026) — پاکستان کی سینیٹ کے آج کے اجلاس میں سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی صحت کے معاملے پر شدید احتجاج ہوا۔ اپوزیشن اراکین (خاص طور پر پی ٹی آئی کے سینیٹرز اور اتحادی) نے ایوان میں نعرے بازی کی، کاغذات پھاڑے اور عمران خان کی آنکھوں کی سنگین بیماری پر فوری توجہ کا مطالبہ کیا۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر راجا ناصر عباس نے تقریر کے دوران انتہائی سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا:
"عمران خان کی آنکھ کی 85 فیصد بینائی چلی گئی ہے۔ اگر معاملات نہ سدھرے تو ہم سڑکوں پر نکل آئیں گے، گولیاں بھی کھائیں گے لیکن خاموش نہیں رہیں گے۔ یہ صحت کا مسئلہ نہیں، یہ سیاسی انتقام ہے۔ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو چاہیے کہ فوری طور پر عمران خان کو رہا کیا جائے یا انہیں مناسب علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا جائے۔”
راجا ناصر عباس نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے 12 فروری کو جاری کردہ حکم پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ "اگر عمران خان نابینا ہو گئے تو یہ ملک کے لیے ایک بڑا سانحہ ہو گا، اور اس کی ذمہ دار موجودہ نظام ہو گا۔”
سینیٹ اجلاس کے دوران چیئرمین سینیٹ نے معاملے پر بحث کی اجازت دی، لیکن حکومتی بینچز نے اسے "سیاسی ڈرامہ” قرار دے کر رد کر دیا۔ وزیر داخلہ اور قانون و انصاف کے وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے جیل حکام اور میڈیکل بورڈ کی رپورٹس کے مطابق مناسب علاج جاری ہے، اور کوئی سنگین خطرہ نہیں ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے کل ایک عدالت نامزد وکیل کی رپورٹ پر نوٹس لیتے ہوئے فوری میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور 16 فروری تک عمران خان کو ان کے بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی اجازت دینے کا حکم دیا تھا۔ پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ جیل میں تین ماہ سے زائد عرصے تک آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر کی رسائی نہ ہونے سے حالت خراب ہوئی، اور اب صرف 15 فیصد بینائی باقی ہے۔
پی ٹی آئی نے ملک بھر میں کارکنان کو الرٹ کر دیا ہے کہ اگر 48 گھنٹوں میں پیش رفت نہ ہوئی تو "آزادی مارچ” کی شکل میں احتجاج شروع ہو جائے گا۔

متعلقہ پوسٹ