بنگلہ دیش 13ویں پارلیمانی انتخابات: ابتدائی غیر سرکاری نتائج میں بی این پی سب سے آگے، 63 نشستوں پر برتری — جماعت اسلامی 21، این سی پی 2 نشستیں حاصل

IMG 20260212 WA2718

ڈھاکہ — بنگلہ دیش کی 13ویں جاتیہ سنسد انتخابات کے ابتدائی غیر سرکاری نتائج (جمعہ کی صبح تک) کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) واضح برتری کے ساتھ آگے ہے۔ بی این پی نے اب تک 63 نشستوں پر لیڈ یا جیت حاصل کر لی ہے، جو اسے حکومت سازی کی طرف مضبوط قدم قرار دے رہا ہے۔
بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی (جو 11 پارٹی اتحاد کی قیادت کر رہی ہے) نے 21 نشستیں جیت لی ہیں یا ان پر برتری حاصل کی ہے۔
نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) — جو 2024 کی طلبہ تحریک سے ابھری ہے — نے 2 نشستیں حاصل کی ہیں، جن میں سے ایک کمیلا-4 (دیبیڈوار) میں چیف آرگنائزر حسنات عبداللہ کی لینڈ سلائیڈ جیت شامل ہے۔
یہ نتائج مختلف ذرائع (جیسے ڈھاکہ ٹریبیون، الجزیرہ، اور دیگر مقامی میڈیا) سے جمع کیے گئے ابتدائی اعداد و شمار پر مبنی ہیں، جہاں گنتی کا عمل جاری ہے۔ کل 300 نشستوں (299 میں انتخابات ہوئے) میں سے اب تک کئی سو سینٹرز کے نتائج آ چکے ہیں، اور مکمل حتمی نتائج الیکشن کمیشن کی جانب سے آج دوپہر یا شام تک متوقع ہیں۔
بی این پی کی قیادت طارق رحمان کر رہے ہیں، جو متعدد حلقوں (جیسے ڈھاکہ اور بوگرہ) میں آگے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان بھی اپنے حلقے میں مضبوط ہیں۔ ابتدائی رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی این پی کی اتحادی پارٹیاں بھی کچھ نشستیں حاصل کر رہی ہیں، جبکہ جماعت کی اتحادی این سی پی نے طلبہ بیس والے علاقوں میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔
یہ انتخابات شیخ حسینہ کی 2024 میں گرنے والی حکومت کے بعد پہلے بڑے انتخابات ہیں، جہاں عوامی لیگ پر پابندی ہے۔ ووٹر ٹرن آؤٹ تقریباً 48% رہا، اور نتائج ملک کی سیاسی سمت کا تعین کریں گے۔

متعلقہ پوسٹ