پاکستان کا ابراہیمی معاہدے پر واضح موقف: فلسطینی ریاست کے اعتراف سے پہلے کوئی لچک نہیں

IMG 20260530 WA0907


واشنگٹن — نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان فلسطین کو تسلیم کیے جانے تک ابراہیمی معاہدے میں شمولیت پر کوئی لچک نہیں دکھائے گا۔
واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف یکسر واضح ہے — جب تک 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق اور القدس الشریف کو دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی، اسلام آباد اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
ڈار نے مزید بتایا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کو تقریباً 47 سال بعد مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جو اسلام آباد کی بین الاقوامی سفارت کاری کی اہم کامیابی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان خطے میں امن کا معمار ہے اور بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کو "خوشگوار اور نتیجہ خیز” قرار دیتے ہوئے ڈار نے کشمیر کا بھی ذکر کیا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایران امریکا معاہدے کے بعد سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک کو ابراہیمی معاہدے کا حصہ بننا چاہیے، جس کے بعد پاکستان کا یہ موقف خاصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹ