اسلام آباد/راولپنڈی — عالمی فنکار گروپ ’آرٹسٹس فار سیزفائر‘ نے غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ اعلان کردہ جنگ بندی حقیقت میں مؤثر طور پر نافذ نہیں ہوئی۔ گروپ کے حالیہ بیان میں مارک رُفالو، ہاویئربارڈیم، اینی لینکس سمیت متعدد بین الاقوامی شخصیات نے مقبوضہ علاقے میں ’’ایک مستقل جنگ بندی، بغیر رکاوٹ انسانی امداد کی فوری فراہمی اور فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی دہائیوں پر محیط پامالی کا خاتمہ‘‘ کا مطالبہ دہرایا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اعلان کردہ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں تشدد اور شہری ہلاکتیں جاری ہیں اور ’’غزہ میں کوئی جنگ بندی نہیں ہے۔ ہر روز فلسطینی خوفناک مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔‘‘ گروپ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے 1,200 سے زائد فلسطینی ہلاک اور 4,000 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
یونیسف نے بھی خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد تقریباً 300 دنوں میں کم از کم 300 بچے ہلاک ہوئے، جبکہ سیکڑوں دیگر زخمی ہوئے اور ہزاروں فلسطینی خاندان غزہ پٹی کے تقریباً ایک تہائی حصے میں محصور ہیں، غذائی قلت، بیماریوں، ناپاک پانی اور تباہ شدہ صفائی کے نظام سے دوچار ہیں۔
بیان میں مقبوضہ مغربی کنارے کا بھی ذکر کیا گیا اور کہا گیا کہ وہاں کے فلسطینی روزانہ اسرائیلی آباد کاروں اور فوج کی جانب سے دہشت زدہ اور قتل کیے جا رہے ہیں۔ فنکاروں نے اسرائیلی حکومت کو ’’نسلی صفائی‘‘ کے الزامات سے بھی منسوب کیا ہے۔
آرٹسٹس فار سیزفائر نے عالمی برادری بالخصوص ثالثی کرنے والی ریاستوں اور بشمول اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ فوری اور مؤثر کارروائی کریں تاکہ مستقل جنگ بندی کو یقینی بنایا جا سکے اور شہریوں تک زندگی بچانے والی امداد پہنچائی جا سکے۔
گروپ کی اس جاری کردہ فہرست میں ملیسا باریرا، ہنہ اینبائنڈر، الانا گلیزر، پوپی لیو، سنسیہ نکسن، سوزن سارنڈن اور مارگن اسپیکٹر سمیت متعدد نام شامل ہیں۔ اس سے قبل بھی گروپ کو بیلی ایلش، کیٹ بلانشٹ، جواکئین فینکس اور اریانا گرانڈے جیسی شخصیات کی حمایت حاصل رہی ہے۔
یہ بیان متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، مصر، قطر، اردن، ترکی، پاکستان اور انڈونیشیا کے حالیہ مشترکہ مذمتی بیان کے چند روز بعد آیا ہے جن میں غزہ میں شہریوں کی مسلسل ہلاکتوں پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔

