جاپان میں ڈھائی کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے سامان کا آرڈر دے کر پیسے نہ دینے والی خاتون کو گرفتار کر لیا گیا۔
جاپانی میڈیا کے مطابق اوساکا سے تعلق رکھنے والی 32 سالہ ریسٹورنٹ ملازمہ مایو یوشیدا نے 2024 اور 2025 کے دوران شوئیشا کے آن لائن اسٹور سے 2 ہزار سے زائد آرڈرز کیے۔ حیران کن طور پر ان آرڈرز کے لیے اس نے کم از کم 238 مختلف اکاؤنٹس استعمال کیے۔
تحقیقات کے مطابق یوشیدا نے جاپان کے سہولت اسٹورز کے ذریعے پری پے منٹ کے نظام کا فائدہ اٹھایا۔ اس طریقے کے تحت اگر صارف کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی نہیں کرنا چاہتا تو وہ قریبی کنوینینس اسٹور پر رقم ادا کرتا ہے اور ادائیگی کی تصدیق کے بعد کمپنی سامان روانہ کرتی ہے۔ خاتون نے منگوائے گئے آرڈرز کی رقم ادا نہیں کی، جس کے باعث مقررہ مدت گزرنے پر آرڈرز خودکار طور پر منسوخ ہو گئے۔
اس کے علاوہ خاتون نے بعض اشیا کے لیے کیش آن ڈیلیوری کا انتخاب کیا اور سامان پہنچنے پر اسے وصول کرنے سے انکار کردیا۔ نتیجتاً کمپنی کو بار بار پیکنگ، ترسیل اور واپسی کے اخراجات برداشت کرنا پڑے۔
شوئیشا کے مطابق خاتون کی اس سرگرمی سے کمپنی کو صرف فیس اور دیگر اخراجات کی مد میں تقریباً 47 ہزار ڈالر کا براہِ راست نقصان ہوا۔
کمپنی کو اس کے علاوہ ان اشیا کی ممکنہ فروخت کا بھی نقصان اٹھانا پڑا جو خاتون کے بڑے پیمانے پر آرڈر کرنے کے باعث عارضی طور پر ’آؤٹ آف اسٹاک‘ ظاہر ہوتی رہیں۔
ایک سال تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد مایو یوشیدا کو منگل کے روز گرفتار کیا گیا۔ تفتیش کے دوران اس نے 238 مختلف اکاؤنٹس سے 2 ہزار سے زائد آرڈرز دینے کا اعتراف کیا۔
Source link

