وزیر داخلہ بلوچستان پر دہشت گردوں کا حملہ

balochistans interior minister1786829258 0


بلوچستان کے علاقے مستونگ میں دہشت گردوں نے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کے قافلے پر حملہ کر دیا۔دہشت گردوں کی فائرنگ میں وزیر داخلہ تو محفوظ رہے تاہم ان کی حفاظت پرمامور 6 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

دہشت گردی کا یہ واقعہ مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں کنڈ عمرانی کے مقام پرپیش آیا۔ بتایاگیا ہے کہ بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو ڈپٹی کمشنرقلات کے آفس میں جشن آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد کوئٹہ واپس آ رہے تھے کہ ان پردہشت گردوں نے حملہ کر دیا۔

اس واقعہ کے بعد میر ضیاء اللہ لانگو نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ حملہ آور سڑک کے دونوں اطراف باغات میں چھپے ہوئے تھے اور قافلے کے اس علاقے میں پہنچتے ہی انہوں نے شدید فائرنگ شروع کردی۔

پولیس سکواڈ نے فوری جوابی کارروائی کی۔ تقریباً 20 منٹ تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حملوں سے انھیں خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا‘ حکومت، پولیس اور سکیورٹی ادارے امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریاست مخالف عناصر اور ان کے مبینہ بیرونی سرپرست اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ادھر صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف نے وطنِ عزیز سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

صدرمملکت سے ایوانِ صدر میں وزیر اعظم نے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے تاریخی مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے انہیںآگاہ کیااور داخلی اور خارجی امور سمیت فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

پاکستان کے دوصوبے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گرد تسلسل کے ساتھ کارروائیاں کر رہے ہیں‘ دہشت گردوں نے 23 اور 24 جولائی کی درمیانی شب، جنوبی خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں سکیورٹی اہلکاروں کی مشترکہ مانجھی خیل چیک پوسٹ پر بھی خودکش حملہ کیا تھا جس میں 15 جوان شہید ہوگئے، سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے فرار ہونے والے 12 خوارج مارے گئے۔دہشت گردوں نے کوئٹہ کے قریب پولیس فورس کو بھی ٹارگٹ کیا تھا۔

خیبرپختونخوا اور بلوچستان دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔ دہشت گرد تواتر کے ساتھ دونوں صوبوں میں سکیورٹی فورسز، سویلین سرکاری افسروں ‘اہلکاروں اور عام لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ گزشتہ دنوںبلوچستان کے ضلع مستونگ میںہی سیشن جج اور ان کے سکیورٹی گارڈ کو شہید کیا گیاتھا۔

اس سے قبل بھی بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں ہوئی ہیں۔ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ کچھ روز قبل مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں فتنہ الہندوستان کے4 دہشت گردوںکو ہلاک کیا گیا تھا۔

دہشت گردوں کی سہولت کاری میں ملوث متعدد مشتبہ افرادبھی گرفتار کیے گئے تھے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مستونگ دہشت گردوں کا خصوصی ٹارگٹ ہے اور یہاں انہیں سہولت کاری بھی میسر ہے۔

اس حقیقت کو بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ پاکستان بھر خصوصاً بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے ڈانڈے افغانستان اور بھارت سے ملتے ہیں۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد کہاں ٹریننگ حاصل کرتے ہیں، کہاں پناہ حاصل کرتے ہیں اور انہیں پیسہ کہاں سے ملتا ہے، یہ کوئی ڈھکے چھپے حقائق نہیں رہے ہیں۔

یاد رہے کہ چند وز قبل ہی اسلام آباد میں وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے ’’بلوچستان نیشنل ورکشاپ‘‘ کے شرکا سے خطاب کے دوران واضح طور پر کہا تھا  پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، اس کے علاوہ انہوں نے افغانستان کی طالبان حکومت پر زور دے کر کہا تھا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے ۔

اس ساری بات کا مقصد یہ کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعما ل کیا جا رہا ہے اور دہشت گرد گروپوں کو افغانستان اور بھارت کی پوری حمایت حاصل ہے۔ افغانستان کی طالبان رجیم کے وزراء بھارت جاتے رہتے ہیں اور وہاں جا کر وہ جس قسم کے بیانات دیتے ہیں، اس سے بھی یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے افغانستان اور بھارت یکساں اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہیں۔

افغانستان کے ایک وزیر تو یہاں تک بھی کہہ چکے ہیں کہ بھارتی باشندوں اور افغانستان کے باشندوں کا ڈی این اے ایک ہے۔اب پتہ نہیں کہ وہ کتنے بڑے بیالوجسٹ اور ڈی این اے کے ماہر تھے کہ انہوں نے یہ بات بآسانی کر دی حالانکہ افغانستان میں کوئی ایک نسل یا قومیت کے لوگ آباد نہیں ہیں۔

اسی طرح بھارت میں تونسلوں اور قومیت کا شمار ہی نہیں ہے۔ اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ افغان طالبان کے وزیر موصوف نے پتہ نہیں کون سی تحقیق کے بل بوتے پر یہ نظریہ اختیار کیا ہے۔

اسی طرح بھارت کے ایک اہم وزیر اور بی جے پی کے لیڈر راج ناتھ سنگھ نے بھی کچھ عرصہ قبل فرمایا تھا کہ بی جے پی اور طالبان کا ایجنڈا ایک ہی ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں ملک کس حد تک پاکستان کے بارے میں عناد رکھتے ہیں اور پاکستان یہ سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ بھارت اور افغانستان دونوں کا مشترکہ ایجنڈا پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے۔

بھارت کے حکام افغانستان کی طالبان حکومت کو تکنیکی اور مالیاتی مدد فراہم کر تے ہیں جبکہ افغانستان کی طالبان حکومت نے اپنی سرزمین دہشت گرد گروپوں کے لئے بطور پناہ گاہ کھول رکھی ہے۔

سب کو معلوم ہے کہ پاکستان کے دشمن دہشت گردوں کو وسائل فراہم کر رہے ہیں، افغانستان کی طالبان رجیم کو اچھی طرح علم ہے کہ ان کی سرزمین پر موجود دہشت گرد تنظیموں کے تربیتی کیمپ کہاں کہاں موجود ہیں اور پوری طرح کام بھی کر رہے ہیں۔

پاکستان نے افغان عبوری حکومت کو اس حوالے سے بارہا آگاہ کیا، لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ یوں دیکھا جائے تو یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ افغانستان کی طالبان رجیم کو پوری طرح پتہ ہے کہ دہشت گرد کیا کر رہے ہیں۔

افغانستان میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ان تنظیموں کی سسٹرز آرگنائزیشنز کے رہنما غیرقانونی تجارت کرتے ہیں۔ ان میں منشیات کا کاروبار سرفہرست ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ لوگ افغانستان میں بلاخوف نقل وحرکت کر رہے ہیں۔

یعنی ایسا بھی نہیں ہے کہ وہ چھپے ہوئے ہیں۔ طالبان کے مختلف ریجنل جتھے داروں کے ساتھ ان کی ملاقاتیں بھی ہوتی رہتی ہیں اور وہ پاکستان کے خلاف مشترکہ حکمت عملی طے کرتے ہیں۔ یہ صورت حال انتہائی خطرناک ہے۔

پاکستان ہی نہیں بلکہ اقوام متحدہ بھی اس حوالے سے متعدد بار کہہ چکی ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد موجود ہیں جو دوسرے ملکوں کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ یورپی ممالک بھی متعدد بار ایسا کہہ چکے ہیں۔

ان حقائق کے باوجود افغان طالبان کی حکومت اپنی روش پر قائم ہے جبکہ بھارت کی بی جے پی حکومت کھل کر طالبان حکومت کی حمایت کر رہی ہے۔

پاکستان دہشت گردی کا براہ راست شکار ملک ہے۔ یہ ایک دو برس کا قصہ نہیں بلکہ کئی دہائیوں کی کہانی ہے۔ دہشت گرد تنظیموں نے پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں خودکش حملے اور بم دھماکے کئے ہیں۔ افغانستان سے متصل پاکستان کے سرحدی علاقوں میں افغانستان سے دراندازی کرنا بھی ایک معمول ہے۔

افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے پاکستان میں موجود اپنے سہولت کاروں سے مکمل رابطے ہیں۔ دہشت گردی نے پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو متاثر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں پاکستانیوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے جبکہ افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے دفاع کے لیے مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔

پاکستان دہشت گردی کا جس طرح مقابلہ کر رہا ہے، دنیا کے شاید ہی کسی اور ملک نے اتنی  طویل اور صبرآزما جنگ لڑی ہو۔ مالی ومعاشی مشکلات کے باوجود پاکستان دہشت گردوں کی بیخ کنی میں مصروف ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سائنس وٹیکنالوجی کی ترقی کا سفر بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردوں کے جو سہولت کار موجود ہیں، ان کو بھی اپنا انجام نظر آ رہا ہے۔ بلوچستان میں زرعی معیشت کو ترقی دینے کے ساتھ ساتھ صنعتی ترقی پر بھی کام جاری ہے۔

ایک جانب پاکستان اندرون ملک دہشت گردوں سے لڑ رہا ہے تو دوسری جانب بھارت اور افغانستان پاکستان کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ہزاروں قربانیوں کے باوجود ہماری بہادر افواج اور سکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ لڑ رہے ہیں اور انشاء اللہ ایک دن وہ کامیاب ہوں گے اور دشمن کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
 





Source link

متعلقہ پوسٹ