دنیا میں موسمیاتی تبدیلی پر ہونے والی عالمی کانفرنسوں کا ذکر آتے ہی عموماً کوپ سمٹ جیسے نام ذہن میں آتے ہیں، لیکن اگست 2026 میں ایک اور اہم عالمی کانفرنس منعقد ہونے جا رہی ہے جس کا تعلق براہِ راست زمین، پانی، خشک سالی اور خوراک کے مستقبل سے ہے۔
اقوام متحدہ کے کنونشن برائے انسداد صحرا زدگی (یو این سی سی ڈی) کی 17ویں کانفرنس یعنی کوپ۔17، 17 سے 28 اگست 2026 تک منگولیا کے دارالحکومت اولان باتور میں ہو رہی ہے۔
اس سال کوپ 17 کا مرکزی موضوع ’زمین کی بحالی، امید کی بحالی ہے۔‘
کوپ17 آخر ہے کیا؟
سب سے پہلے ایک بنیادی غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے۔
کوپ17 کا مطلب یہ نہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کی کوپ 30 کے بعد دوبارہ کوپ17 آ گئی ہے۔ دراصل اقوام متحدہ کے مختلف ماحولیاتی کنونشنز کی اپنی الگ الگ کوپ ہیں۔
کوپ 30 موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کی 30 ویں کانفرنس تھی جو گذشتہ سال برازیل میں منعقد ہوئی اور کوپ31 رواں سال نومبر میں ترکی میں ہو گی جب کہ کوپ17 یہاں یو این سی سی ڈی کی 17ویں کانفرنس ہے، جس کا بنیادی تعلق زمین کے صحرا میں تبدیل ہونے، سطح زمین کی خرابی اور خشک سالی سے ہے۔
اسی طرح حیاتیاتی تنوع سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کی بھی اپنی الگ کوپ نمبر ہے۔
یو این سی سی ڈی کے تحت ہونے والی کوپ کا بنیادی مقصد یہ طے کرنا ہے کہ دنیا زمین کی تباہی، بڑھتی ہوئی خشک سالی اور صحرائی پن کے خلاف کس طرح مشترکہ اقدامات کرے اور متاثرہ زمین کو بحال کرے۔
2026 کی کانفرنس میں اقوام متحدہ کے 197 فریقین کے نمائندوں کے علاوہ حکومتوں، کاروبار، سائنس دانوں، مقامی برادریوں، نوجوانوں، چرواہا برادریوں اور کسانوں کی شرکت متوقع ہے۔
پاکستان کے لیے کوپ17 کیوں اہم ہے؟
پاکستان یو این سی سی ڈی کا باقاعدہ رکن ہے۔ پاکستان نے یو این سی سی ڈی کی توثیق 24 فروری 1997 کو کی تھی اور وہ ایشیا کے Annex II خطے میں شامل ہے۔
پاکستان جیسے ملک کے لیے کوپ17 کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ یہاں زمین، پانی، زراعت اور آبادی کا ایک دوسرے پر براہ راست انحصار ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یو این سی سی ڈی کے پاکستان سے متعلق ڈیٹا کے مطابق 2019 میں تقریباً 2.81 ملین ہیکٹر زمین ڈی گریڈڈ (بنجر) رپورٹ ہوئی، جو ملک کے کل رقبے کا 3.25 فیصد بنتی ہے۔
یہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ زمین کی صحت کو بہتر بنانا پاکستان کے لیے ماحولیاتی کے ساتھ ساتھ معاشی مسئلہ بھی ہے۔
زراعت پاکستان کی معیشت اور روزگار کا اہم ستون ہے، اس لیے زمین کی پیداواری صلاحیت میں کمی کا براہ راست اثر خوراک کی قیمتوں، کسانوں کی آمدنی اور دیہی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف خشک سالی اور پانی کی کمی پہلے سے موجود دباؤ کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
یو این سی سی ڈی کے مطابق دنیا کی نصف سے زیادہ زمینی سطح رینج لینڈز پر مشتمل ہے اور یہ لاکھوں لوگوں کی خوراک، روزگار اور معاشی سرگرمیوں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں، تاہم رینج لینڈز کا بڑا حصہ خراب ہو رہا ہے۔
یہ موضوع پاکستان کے ان علاقوں کے لیے بھی اہم ہے جہاں مویشی پالنا اور چراگاہوں پر انحصار دیہی معیشت کا حصہ ہے۔ بہتر زمین کا انتظام، مقامی برادریوں کے حقوق اور پائیدار چرائی کے طریقے زمین کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

