دنیا کے سب سے بڑے بیٹری سے چلنے والے طیارے نے تاریخی پرواز مکمل کرلی

بیٹری سے چلنے والا طیارہ.webp


دنیا کے سب سے بڑے بیٹری سے چلنے والے طیارے نے تاریخی پرواز مکمل کرلی

یہ تاریخی پرواز 12 اگست کو شمالی نیویارک کے پلیٹس برگ بین الاقوامی ہوائی اڈے سے کی گئی۔

سویڈن کی طیارہ ساز کمپنی نے دنیا کے سب سے بڑے بیٹری سے چلنے والے طیارے کی پہلی آزمائشی پرواز کامیابی سے مکمل کرلی ہے جب کہ  طیارے نے 27 منٹ تک فضا میں پرواز کی۔

طیارے کی کامیاب آزمائشی پرواز کو بڑے مسافر طیاروں کے لیے برقی توانائی کے قابل استعمال ہونے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

سویڈش کمپنی کے مطابق یہ تاریخی پرواز 12 اگست کو شمالی نیویارک کے پلیٹس برگ بین الاقوامی ہوائی اڈے سے کی گئی جس کے دوران طیارہ ایک ہزار ایک سو فٹ تک کی بلندی پر گیا۔

دنیا کے سب سے بڑے بیٹری سے چلنے والے اس طیارے کی آزمائشی پرواز میں صرف ایک پائلٹ سوار تھا۔ طیارے کی لمبائی تقریباً 23 میٹر جبکہ پروں کا پھیلاؤ 32 میٹر سے زیادہ ہے اور پرواز کے وقت اس کا وزن 11 ہزار کلوگرام سے زائد تھا۔

طیارے میں نصب مکمل برقی نظام دس لاکھ واٹ سے زیادہ طاقت پیدا کرتا ہے جب کہ آزمائشی پرواز کے دوران استعمال ہونے والی بجلی کی لاگت تقریباً پانچ ڈالر رہی۔

یہ کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہوابازی کے ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے جس کے باعث مختصر اور علاقائی فضائی سفر کے لیے برقی طیاروں کو کم لاگت کا متبادل سمجھا جارہا ہے۔

کمپنی کے مطابق کئی بڑی فضائی کمپنیوں نے مستقبل کے علاقائی طیارے خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے جب کہ آزمائشی طیارے کی کامیابی کا مقصد مستقبل میں تیار کیے جانے والے 30 نشستوں والے برقی اور ایندھن سے چلنے والے مشترکہ طیارے کے نظام کو جانچنا ہے۔

مجوزہ مسافر طیارہ مکمل برقی توانائی پر 200 کلومیٹر اور مشترکہ نظام کے ذریعے 800 کلومیٹر تک سفر کرسکے گا۔

کمپنی نے 2031 میں طیارے کی تجارتی پروازیں شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے تاہم اسے سرکاری منظوری، بیٹریوں کی تیاری کے لیے درکار خام مال اور ہوائی اڈوں پر بجلی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے سمیت کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔



Source link

متعلقہ پوسٹ