ایک اعلی پاکستانی عہدیدار نے پیر کو انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق ہو گیا ہے۔
پیر کو پاکستانی حکومت کے اعلیٰ عہدے دار نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا ہے کہ ’ایران اور امریکہ کے مابین 60 روز قبل ہونے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے معاہدہ طے پا گیا ہے۔‘
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے مستقبل اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال برقرار رہی۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی کے بعد 17 جون کو امریکہ اور ایران کے مابین ایک مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع ختم کرنے کے لیے اگلے 60 روز کے اندر حتمی معاہدہ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔
اس پیش رفت سے یہ امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ فروری میں شروع ہونے والی لڑائی کو مستقل طور پر ختم کیا جا سکے گا،لیکن اس تنازع کے باعث خلیج میں تیل اور گیس کی عالمی منڈیوں کے ساتھ ساتھ سمندری آمدورفت بھی شدید متاثر ہوتی نظر آئی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں مجموعی طور پر 14 نکات شامل تھے، جن کا بنیادی مقصد فوجی کارروائیاں روکنا تھا۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کی صورت حال، امریکی بحری ناکہ بندی، ایران پر عائد پابندیاں، ایرانی جوہری پروگرام اور منجمد اثاثوں جیسے اہم معاملات پر بھی بات کی گئی تھی۔
دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ ان معاملات کی حتمی تفصیلات بعد میں ہونے والے جامع معاہدے میں طے کی جائیں گی۔ معاہدے میں یہ بھی طے تھا کہ 60 روز کی مدت باہمی اتفاق سے بڑھائی جاسکتی ہے۔
مفاہمتی یادداشت کے بعد امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے حکام نے سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات شروع کیے۔ مذاکرات کو مختلف شعبوں میں تقسیم کرتے ہوئے جوہری پروگرام، پابندیوں، نگرانی اور مستقبل میں پیدا ہونے والے تنازعات کے حل کے لیے الگ ورکنگ گروپس بنائے گئے۔
آبنائے ہرمز میں کسی نئے واقعے کو روکنے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست رابطے کا ایک چینل بھی قائم کیا گیا۔
لیکن مذاکرات آگے بڑھنے کے ساتھ دونوں فریقین کے درمیان اختلافات بھی سامنے آتے گئے۔ واشنگٹن اور تہران نے ایک دوسرے پر طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا، جبکہ جولائی میں دوبارہ حملوں کے آغاز کے بعد جنگ بندی کی کوششیں مزید بڑھ گئیں۔

