سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو شفاء انٹرنیشل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا

سپریم کورٹ 1.webp


سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو شفاء انٹرنیشل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو آج ہی اسپتال منتقل کیا جائے ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی بانی کے ہمراہ ہوں گے اسپتال کے اخراجات وہ خود برداشت کریں گے۔

سپریم کورٹ نے ہفتے میں ایک دن اہلخانہ سے بھی ملاقات کا حکم دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے علاج پر سیاست کرنے سے بھی روک دیا بانی پی ٹی آئی آئندہ سماعت تک اسپتال میں رہیں گے۔

 بانی پی ٹی آئی کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے عمران خان کے تمام مقدمات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی کتنے مقدمات میں سزا یافتہ ہیں؟

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا میڈیکل ریکارڈ دینے میں کیا مسئلہ ہے؟ جو مواد دیا گیا وہ صرف میڈیکل رپورٹ کی سمری ہے، آئندہ سماعت سے قبل تمام ریکارڈ جمع کرایا جائے، ریکارڈ عدالت میں آئے گا تو وہ خفیہ نہیں رہے گا۔

بانی پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف ایڈووکیٹ کے مطابق عمران خان کیخلاف 200 سے زائد مقدمات درج ہیں۔

عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں 3 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جو بعد میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر دی۔ سائفر کیس میں 10 سال قید کی سزا کو بھی ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا ، اس کے علاوہ نکاح کیس میں 7 سال سزا ہوئی تھی جس میں وہ اور ان کی اہلیہ بری ہو گئے تھے۔ القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ کیس ٹو میں بھی احتساب عدالتوں کی جانب سے سزائیں سنائی گئیں، جن کے خلاف اپیلیں اور سزاؤں کی معطلی کی کارروائیاں عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ بہنوں کی ملاقات کے حوالے سے کیا کہتے ہیں؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو ملاقات نہیں ہو گی۔

جسٹس شاہد نے کہا کہ اگر وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو آپ بھی کریں گے؟ بہنوں سے ملاقات کوئی احسان نہیں ،ان کا بنیادی حق ہے، ریاست کا کام نہیں کہ قانون کی خلاف ورزی کرے۔

جسٹس شاہد نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات پر عمل کیوں نہیں ہو رہا، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ بہنوں کی تین سال میں 48 ملاقاتیں کروائی گئی ہیں۔

عدالت نے بانی پی ٹی آئی سے بہنوں کی ملاقاتوں کی تفصیلات طلب کر لیں جبکہ بانی پی ٹی آئی کی بچوں سے بات کروانے کا ریکارڈ بھی مانگ لیا۔

جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ ایک بات طے کر لیں کہ پی ٹی آئی بانی کی صحت پر سیاست نہیں کرے گی، ملاقاتوں کے بعد باہر آ کر سیاست نہ کریں۔

سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر جیل سپرنٹنڈنٹ کو بھی طلب کر لیا۔ عدالت نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت ملے گی یا نہیں ، وقفے کے بعد فیصلہ کریں گے۔

سپریم کورٹ نے مزید سناعت 16ستمبر تک ملتوی کر دی۔



Source link

متعلقہ پوسٹ