پاکستان کی سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو آج (منگل) ہی شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا ہے، جہاں ان کا مکمل طبی معائنہ کیا جائے گا۔ عدالت نے ان کی صحت کی صورت حال جانچنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی ہے۔
یہ عدالتی حکم عمران خان کی جانب سے دائر درخواست کے کئی ماہ بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے راولپنڈی کے قریب واقع ہائی سکیورٹی جیل سے انہیں اسپتال منتقل کرنے اور اپنے ذاتی ڈاکٹروں، اہل خانہ اور وکلا تک رسائی دینے کی استدعا کی تھی۔
سپریم کورٹ نے منگل کو سماعت کے دوران حکم دیا کہ بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال میں سخت سکیورٹی میں رکھا جائے اور ان کی منتقلی کو کسی بھی صورت سیاسی معاملہ نہ بنایا جائے۔ تحریک انصاف کو بھی ہدایت کی گئی کہ ہسپتال کے باہر کسی قسم کے جلسے، جلوس یا احتجاج کی اجازت نہ دی جائے۔
رواں سال کے آغاز میں جیل پر ممکنہ حملے سے متعلق انٹیلی جنس رپورٹس موصول ہونے کے بعد پاکستان نے عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ جبکہ عمران خان کے اہل خانہ طویل عرصے سے ان تک رسائی اور اپنی پسند کے ڈاکٹروں سے ان کا معائنہ کرانے کی کوشش کر رہے تھے۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف درج تمام مقدمات کی تفصیلات اور ان کا مکمل میڈیکل ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے۔ آئندہ سماعت پر جیل سپرنٹنڈنٹ کو بھی عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کی بہن عظمیٰ خان سے ملاقات کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ ان کے وکیل عذیر بھنڈاری نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ عظمیٰ خان ڈاکٹر ہیں، اس لیے انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
وکیل نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی طویل عرصے سے قیدِ تنہائی میں ہیں اور ان کی بہنوں سے ملاقات نہیں کرائی جا رہی۔
وکیل نے عدالت سے شفا انٹرنیشنل میں مکمل طبی معائنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو ماضی میں بھی علاج کے لیے پمز ہسپتال لے جایا جاتا رہا ہے۔
عدالت نے نجی ہسپتال کے اخراجات سے متعلق بھی سوال کیا، جس پر بتایا گیا کہ یہ اخراجات بانی پی ٹی آئی کی بہن خود برداشت کریں گی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عمران خان طویل عرصے سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان کی صحت، طبی معائنے اور اہلِ خانہ سے ملاقات کا معاملہ ان کے مقدمات کے ساتھ ساتھ مسلسل سیاسی اور قانونی بحث کا موضوع رہا ہے۔
تحریک انصاف متعدد مرتبہ ان کے بہتر طبی معائنے اور اہلِ خانہ، خصوصاً ڈاکٹر بہنوں سے ملاقات کا مطالبہ کرتی رہی ہے، جبکہ حکام کی جانب سے جیل میں طبی سہولیات فراہم کیے جانے کا مؤقف سامنے آتا رہا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے خدشہ ظاہر کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس پر سلمان اکرم راجہ نے یقین دہانی کرائی کہ تحریک انصاف میڈیکل رپورٹس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرے گی۔
عدالت نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا طبی ریکارڈ عدالت کے سامنے مکمل طور پر پیش کیا جائے اور ان کی صحت سے متعلق معاملے کو سیاسی سرگرمیوں سے الگ رکھا جائے۔
اڈیالہ جیل کے حکام کی جانب سے عدالت میں جمع کروائی گئی طبی رپورٹ کے مطابق عمران خان میں بے چینی کی ’شدید‘ علامات پائی گئی ہیں۔ تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے عمران خان کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس پر اڈیالہ جیل حکام کی جانب سے رپورٹ جمع کروائی گئی ہے۔
میڈیکل رپورٹ کے مطابق عمران خان کا بلڈ پریشر 140/80 ملی میٹر مرکری اور نبض 54 فی منٹ تھی۔ رپورٹ میں سینے کا معائنہ اور ای سی جی معمول کے مطابق قرار دیے گئے جبکہ دل کے خانوں اور والوز کی ساخت بھی نارمل بتائی گئی۔ رپورٹ میں ان کی تشویش یا اینزائٹی (بے چینی) کا لیول تھری پلس بیان کیا گیا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق یہ عمران خان کے غصے کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے۔
رپورٹ میں عمران خان کی جانب سے سر میں بھاری پن اور دل کی دھڑکن محسوس ہونے کی شکایت کا ذکر کیا گیا، تاہم سینے میں درد یا بھاری پن اور سانس پھولنے کی شکایت نہیں تھی۔ طبی بورڈ نے ان میں بے چینی کی کیفیت بھی نوٹ کی۔
بینائی متاثر
جنوری کے آخر میں عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش میں اس وقت اضافہ ہوا جب ان کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا کہ ان کی دائیں آنکھ کی تقریباً 85 فیصد بینائی متاثر ہوئی ہے۔ حکومت نے اس دعوے کی تردید کی تھی۔ بعد ازاں حکام نے بتایا کہ عمران خان کی آنکھ کی تقریباً 70 فیصد بینائی بحال ہوگئی ہے اور ان کی حالت میں بہتری آ رہی ہے۔
عمران خان کب سے جیل میں ہیں؟
سابق کرکٹر سے سیاست دان بننے والے عمران خان 2023 سے جیل میں ہیں۔ انہیں کرپشن کے ایک مقدمے میں سزا سنائی گئی تھی۔ اس سے قبل اپریل 2022 میں پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد انہیں وزارتِ عظمیٰ سے ہٹا دیا گیا تھا۔ عمران خان نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے کے پیچھے امریکہ کی حمایت یافتہ سازش تھی۔

