بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی مینگل) کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل نے صوبے کی موجودہ صورتحال کو "انتہائی تشویشناک” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان عملی طور پر "نو گو ایریا” (No-Go Area) میں تبدیل ہو چکا ہے۔
اپنے ایک بیان میں (جو سوشل میڈیا اور مقامی نیوز سائٹس پر شیئر کیا گیا ہے) سردار اختر مینگل نے کہا:
"میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی صورتحال کو اس قدر خطرناک نہیں دیکھا۔ میڈیا ہاؤسز مکمل طور پر خاموش ہیں۔ کیا وزیر داخلہ وضاحت کر سکتے ہیں کہ وہ ایس ایچ او کہاں ہیں؟”
یہ بیان بلوچستان میں جاری سیکیورٹی چیلنجز، تشدد، لاپتہ افراد کے کیسز اور سیاسی عدم استحکام کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ سردار مینگل نے ماضی میں بھی بلوچستان کو "کالونی” قرار دیا تھا اور ریاست کی پالیسیوں پر تنقید کی تھی، جہاں ان کا کہنا تھا کہ صوبے کا کوئی انچ بھی حکومت کے کنٹرول میں نہیں رہا۔
بی این پی مینگل کی جانب سے یہ بیان حالیہ دنوں میں بلوچستان میں بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد آیا ہے، جہاں علیحدگی پسند گروپس اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ میڈیا کی "خاموشی” کا الزام بھی بلوچستان میں صحافیوں پر دباؤ اور خود سنسرشپ کے الزامات سے جڑا ہے۔
وزیر داخلہ کی طرف سے اب تک اس بیان پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان نے ماضی میں ایسے بیانات پر کہا تھا کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں اور صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
یہ بیان بلوچستان کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر جاری بحث کو مزید شدت دے رہا ہے، جہاں قومی سطح پر بھی توجہ کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

