غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 30 سے زائد فلسطینی شہید، رفح سرحد کھلنے سے ایک دن پہلے شدید بمباری

IMG 20260201 WA0006



غزہ کی پٹی میں ہفتہ کو اسرائیلی فضائی حملوں کی ایک نئی لہر میں کم از کم 30 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں کئی بچے بھی شامل ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت اور مقامی ہسپتالوں کے مطابق یہ ایک ہی دن میں جنگ بندی کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتوں والا دن ہے۔
حملے غزہ کے مختلف علاقوں میں کیے گئے، جن میں غزہ شہر کے رہائشی اپارٹمنٹس، خان یونس میں خیموں کا کیمپ اور شیخ رضوان محلے میں حماس کے زیر انتظام پولیس اسٹیشن شامل ہیں۔ غزہ کی سول ڈیفنس اور ہیلتھ اتھارٹیز نے ہلاکتوں کی تعداد 28 سے 32 تک بتائی ہے۔ شہید ہونے والوں میں خواتین، کم از کم چھ بچے اور کچھ پولیس اہلکار شامل ہیں۔ درجنوں افراد زخمی ہوئے، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔
اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا کہ یہ حملے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جواب میں کیے گئے۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ کل مشرقی رفح میں (جو جنگ بندی کے تحت اسرائیلی کنٹرول میں ہے) زیر زمین سرنگوں سے آٹھ مسلح افراد نکلے تھے، اس لیے حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد کے کمانڈروں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب مصر کے ساتھ رفح سرحدی گزرگاہ کل اتوار (1 فروری 2026) کو جزوی طور پر دوبارہ کھلنے والی ہے۔ یہ امریکی ثالثی جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا اہم حصہ ہے۔ تقریباً دو سال سے بند یہ گزرگاہ محدود بنیاد پر مسافروں کی آمد و رفت، طبی انخلا اور انسانی امداد کے لیے کھلی گی۔ فلسطینی اسے طبی علاج، خاندانوں کی ملاقات اور امدادی سامان کے لیے زندگی کی رگ سمجھتے ہیں۔
اکتوبر 2025 میں شروع ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک غزہ میں 490 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ مجموعی جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 70,000 تک پہنچ چکی ہے (مقامی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق)۔
حملوں کے بعد غزہ شہر اور خان یونس میں ملبے سے لاشیں نکالنے کا کام جاری ہے۔ حماس کی طرف سے ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
یہ پیش رفت جنگ بندی کے اگلے مراحل — سرحدوں کی دوبارہ کھولنے، غیر مسلح کرنے کی بات چیت اور غزہ کی تعمیر نو — کے لیے نازک صورتحال پیدا کر رہی ہے۔

متعلقہ پوسٹ