دنیا کے کیلنڈر میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو محض تاریخ نہیں ہوتے، وہ ہمارے ضمیر پر رکھا ہوا ایک سوال ہوتے ہیں۔ عالمی یوم انسانیت بھی ایسا ہی ایک دن ہے جو 19 اگست کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب کسی تقریر ،کسی قرارداد ،کسی سرکاری بیان یا کسی خوب صورت نعرے سے نہیں دیا جا سکتا۔ یہ سوال بہت سادہ ہے مگر شاید اسی لیے بہت دشوار بھی۔
ہم انسان کب ہیں،جب ہم اپنے جیسے لوگوں کے دکھ میں شریک ہوتے ہیں یا جب کسی زخمی کے زخم پر مرہم رکھتے ہیں یا اس وقت جب ہم اس شخص کے حق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں جس سے ہماری کوئی رشتہ داری، کوئی مذہبی نسبت اور کوئی سیاسی مفاد وابستہ نہیں۔ انسانیت کا اصل امتحان شاید وہیں شروع ہوتا ہے جہاں اپنا اور غیر کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔
ہم ایک ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جس نے انسان کو حیرت انگیز طاقت عطا کی ہے۔ ہم نے آسمانوں کی وسعتیں ناپ لیں، سمندروں کی تہوں تک پہنچ گئے، مشینوں کو سوچنے کی صلاحیت دے دی، دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک چند لمحوں میں پیغام پہنچانے لگے، لیکن اسی انسان نے ایسے ہتھیار بھی ایجاد کر لیے جن سے ایک شہر چند لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن سکتا ہے۔
ہم نے ترقی کی ہے مگر کیا ہم نے انسان ہونا بھی سیکھا ہے۔ یہ سوال آج پہلے سے زیادہ اہم ہے۔
دنیا کے کسی حصے میں ایک بچہ ملبے کے درمیان اپنی ماں کو تلاش کر رہا ہوتا ہے اور دنیا کے دوسرے حصے میں کوئی دوسرا بچہ اپنی سالگرہ کے تحفے کھول رہا ہوتا ہے۔ کہیں ایک خاندان بارش کے پانی سے اپنا گھر بچانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے اور کہیں کسی بلند عمارت کی کھڑکی سے کوئی شہر کی روشنیاں دیکھ رہا ہوتا ہے۔ ایک ہی دنیا میں یہ دونوں حقیقتیں بیک وقت موجود ہیں۔
انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم نے دوسروں کے دکھ کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔
ہمیں اب بھوک چونکاتی نہیں۔ جنگ حیران نہیں کرتی، ہجرت ہمیں پریشان نہیں کرتی۔ زلزلے سیلاب قحط وبائیں اور بے گھر انسان ہماری روزمرہ خبروں کا حصہ بن چکے ہیںاور جب کوئی المیہ بار بار ہماری آنکھوں کے سامنے آئے تو انسان کا دل کبھی کبھی اس کا عادی ہو جاتا ہے۔ یہ خطرناک ہے کیونکہ جب دوسروں کا دکھ ہمیں دکھائی تو دے مگر محسوس نہ ہو تو انسانیت کا ایک بنیادی چراغ بجھنے لگتا ہے۔
عالمی یومِ انسانیت دراصل اسی بجھتے ہوئے چراغ کو دوبارہ روشن کرنے کی کوشش ہے۔ یہ دن ان لوگوں کے نام ہے جو انسانوں کے درمیان کھینچی ہوئی سرحدوں سے بلند ہو کر انسان کو انسان سمجھتے ہیں، وہ ڈاکٹر جو جنگ کے بیچ زخمیوں کا علاج کرتا ہے۔ وہ نرس جو مسلسل کئی گھنٹوں تک بیماروں کے ساتھ کھڑی رہتی ہے، وہ امدادی کارکن جو سیلابی پانی میں اتر کر کسی اجنبی کو محفوظ مقام تک پہنچاتا ہے، وہ رضاکار جو کسی مہاجر کیمپ میں خوراک تقسیم کرتا ہے، وہ شخص جو کسی ایسے انسان کے لیے آواز اٹھاتا ہے جسے شاید کبھی اس کا نام بھی معلوم نہ ہو۔
ان لوگوں کی عظمت یہ نہیں کہ وہ دنیا بدل دیتے ہیں۔ان کی عظمت یہ ہے کہ وہ کسی ایک انسان کی دنیا بدل دیتے ہیں اور کبھی کبھی یہی کافی ہوتا ہے۔ ہمیں یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ انسانیت خیرات کا نام نہیں۔ ایک بھوکے کو روٹی دینا انسانیت ہے لیکن یہ پوچھنا بھی انسانیت ہے کہ وہ بھوکا کیوں ہے۔ ایک بے گھر کو خیمہ دینا ضروری ہے لیکن یہ سوال اٹھانا بھی ضروری ہے کہ اسے گھر سے کس نے نکالا۔ایک زخمی کو دوا دینا ضروری ہے مگر یہ سوچنا بھی ضروری ہے کہ وہ زخمی کیوں ہوا، اگر ہم ہر روز صرف زخموں پر پٹیاں باندھتے رہیں اور زخم پیدا کرنے والے نظام جنگ ناانصافیوں سے سوال نہ کریں تو ہماری انسانیت ادھوری رہے گی۔ انسانیت صرف رحم کا نام نہیں انصاف بھی ہے۔ یہ فرق بہت اہم ہے۔
رحم کبھی کبھی طاقتور کو مطمئن کر دیتا ہے مگر انصاف طاقت کے سامنے سوال کھڑا کرتا ہے۔
رحم کہتا ہے اس بے چارے کی مدد کرو۔انصاف پوچھتا ہے وہ بے چارہ بنا کیسے۔ رحم ایک وقت کے لیے بھوک مٹا سکتا ہے۔انصاف یہ سوال اٹھاتا ہے کہ ایسا معاشی نظام کیوں قائم ہے جس میں کچھ لوگ ضرورت سے کہیں زیادہ رکھتے ہیں اور کچھ کے پاس زندگی کی بنیادی ضرورتیں بھی نہیں۔ رحم جنگ کے زخمیوں کو دوا دیتا ہے۔ انصاف جنگ کے دروازے پر جا کر پوچھتا ہے
یہ جنگ شروع کس نے کی۔
دنیا کو دونوں کی ضرورت ہے مگر اگر انصاف غائب ہو جائے تو رحم بھی کبھی کبھی ایک عارضی مرہم سے زیادہ نہیں رہتا۔ آج دنیا میں کروڑوں انسان ایسے ہیں جن کی زندگی جنگ غربت قحط بے گھری سیاسی بحران قدرتی آفات اور بیماریوں سے متاثر ہے، مگر ان میں سے ہر شخص صرف ایک متاثرہ فرد نہیں۔وہ کسی کا بیٹا ہے۔ کسی کی ماں ہے، کسی کا باپ ہے کسی کی بہن ہے۔کسی کا دوست ہے۔اور سب سے بڑھ کر وہ ایک انسان ہے۔اعداد و شمار ہمیں مسئلے کی وسعت بتاتے ہیں مگر انسان کی عظمت اس کے عدد بن جانے سے ختم نہیں ہوتی۔ ہم کہتے ہیں اتنے لاکھ مہاجر۔مگر اس عدد کے پیچھے کتنے گھر ہیں؟کتنی ماؤں نے اپنے بچوں کے ہاتھ پکڑ کر سرحدیں عبور کی ہیں۔ کتنے باپ اپنے بچوں سے یہ کہتے ہوئے نکلے ہیں کہ چلو کہیں تو امن ہوگا۔کتنے بچوں نے اپنے اسکول اپنے کھلونے اپنے دوست اور اپنے بچپن کو کسی خیمے کے اندر دفن کر دیا ہے۔
یہ وہ سوال ہیں جو اعداد و شمار نہیں پوچھتے۔یہ سوال انسان کا ضمیر پوچھتا ہے۔اور شاید اسی لیے انسانیت کا تصور سرحدوں سے بڑا ہے۔ ایک بچہ جب بھوک سے روتا ہے تو اس کا پاسپورٹ نہیں پوچھتا۔ ایک ماں جب اپنے بچے کو کھوتی ہے تو اس سے اس کا مذہب نہیں پوچھا جاتا۔زلزلہ جب گھر گراتا ہے تو قومیت نہیں دیکھتا۔
سیلاب جب بستی میں داخل ہوتا ہے تو امیر اور غریب کے درمیان فرق نہیں سمجھتا ،اگرچہ اس کے بعد نقصان کا بوجھ اکثر غریب ہی زیادہ اٹھاتا ہے۔ قدرت کے سامنے انسان برابر ہے مگر انسانوں کے بنائے ہوئے نظام میں انسان برابر نہیں۔یہی ہماری تہذیب کا سب سے بڑا تضاد ہے۔ہم انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں مگر ان حقوق کی قدر کبھی کبھی انسان کی قومیت، مذہب ،رنگ، نسل اور سیاسی وابستگی دیکھ کر طے کرتے ہیں۔
ہم اپنے بچے کے آنسو کو آنسو کہتے ہیں اور دوسرے کے بچے کے آنسو کو صورتحال۔ ہم اپنے مقتول کو انسان کہتے ہیں اور دوسرے کے مقتول کو اعداد و شمار ہم اپنے مہاجر کو پناہ کا مستحق سمجھتے ہیں اور دوسرے کے مہاجر کو بوجھ۔یہ دہرا معیار انسانیت کے تصور کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔کیونکہ انسانیت کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان کی عزت اس کی شناخت سے پہلے آئے۔عالمی یومِ انسانیت ہمیں شاید یہی بھولی ہوئی بات یاد دلانے آتا ہے کہ انسان ہونا کوئی اعزاز نہیں ایک ذمے داری ہے۔ہم کسی مصیبت زدہ انسان کے دکھ کے ذمے دار نہ بھی ہوں تب بھی اس کے دکھ سے بے نیاز رہنے کا جواز ہمارے پاس نہیں ہونا چاہیے۔اور یہ ذمے داری صرف حکومتوں یا امدادی اداروں کی نہیں۔یہ ہماری بھی ہے ،اپنے گھر میں ،اپنے محلے میں ،اپنے شہر میں ،اپنے ملک میں اور اس وسیع دنیا میں جسے ہم اکثر دوسروں کی دنیا سمجھتے ہیں۔
ہمیں اپنے بچوں کو صرف کامیاب ہونا نہیں سکھانا چاہیے ،انھیں مہربان ہونا بھی سکھانا چاہیے۔ انھیں صرف مقابلہ کرنا نہیں کسی گرتے ہوئے کو اٹھانا بھی آنا چاہیے۔ انھیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ کسی انسان کی عزت اس کے کپڑوں زبان مذہب قومیت یا دولت سے بڑی چیز ہے۔
دنیا کو شاید آج مزید طاقتور لوگوں کی نہیں مزید ذمے دار انسانوں کی ضرورت ہے۔ ہم نے بہت سے عجائبات پیدا کر لیے ہیں مگر ابھی ایک عجوبہ باقی ہے ،ایسا انسان پیدا کرنا جو طاقت رکھتے ہوئے بھی کمزور کو نہ کچلے۔ ایسا انسان جو اختلاف رکھتے ہوئے بھی دوسرے کی عزت کرے۔ ایسا انسان جو اپنے حصے سے کچھ بچا کر کسی ضرورت مند کو دے۔ ایسا انسان جو ظلم دیکھ کر یہ نہ کہے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں۔کیونکہ شاید انسانی تاریخ کی سب سے خطرناک عبارت یہی ہے یہ میرا مسئلہ نہیں۔ہر ظلم کسی نہ کسی دن ہماری دہلیز تک آ سکتا ہے۔ ہر جنگ اپنے پیچھے خوف، نفرت اور بے گھری کی ایسی فصل چھوڑتی ہے جو سرحدوں کو نہیں مانتی۔ ہر ناانصافی سماج کے اندر ایک نیا زخم پیدا کرتی ہے۔اس لیے انسانیت صرف دوسروں کو بچانے کا نام نہیں، آخرکار یہ خود انسان کو بچانے کی کوشش ہے۔
ہمیں شاید یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کس قسم کی دنیا اپنے بعد چھوڑنا چاہتے ہیں۔ ایسی دنیا جہاں انسان کی قدر اس کی قوت سے ہو۔یا ایسی دنیا جہاں کمزور انسان بھی اتنا ہی محترم ہو جتنا طاقتور۔ ایسی دنیا جہاں سرحدیں انسان سے بڑی ہوں یا ایسی دنیا جہاں سرحدوں کے باوجود انسانیت کا رشتہ قائم رہے۔
عالمی یومِ انسانیت کے موقع پر شاید ہمیں بڑے بڑے وعدوں کی ضرورت نہیں۔ شاید ہمیں صرف اتنا یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے اردگرد ہر انسان اپنی ایک پوری کائنات لیے پھرتا ہے۔ کسی ایک انسان کو بچانا کبھی کبھی پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہوتا ہے۔دنیا شاید ہمارے بعد ہماری دولت یاد نہ رکھے، ہماری عمارتیں بھی ایک دن مٹی ہو جائیں گی، عہدے اور اقتدار بھی ختم ہو جائیں گے۔ مگر ممکن ہے کسی اجنبی انسان کو یہ یاد رہے کہ مشکل وقت میں کس نے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔ شاید انسان ہونے کی سب سے بڑی گواہی یہی ہے۔
جب دنیا نے کسی انسان کو تنہا چھوڑ دیا ہو تو ہم نے اسے تنہا نہ چھوڑا ہو، اگر عالمی یومِ انسانیت ہمیں یہ ایک بات بھی سکھا دے تو شاید یہ دن منانا بے معنی نہیں ہوگا، کیونکہ آخرکار انسان کی سب سے بڑی پہچان یہ نہیں کہ وہ کتنا طاقتور تھا،بلکہ یہ ہے کہ اس کی طاقت سے کتنے کمزور انسان محفوظ ہوئے۔

