
( ویب ڈیسک ) امریکی حکومت نے ملک میں پٹرول کی بلند قیمتوں پر قابو پانے کے لیے ریفائنریوں کو ایندھن کی پیداوار بڑھانے میں مدد دینے کے اقدامات کا اعلان کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ چند روز میں ایسے اقدامات سامنے لائے گی جن سے ریفائنریوں کو ایندھن کی پیداوار اور پروسیسنگ مزید بڑھانے میں مدد ملے گی۔
کرس رائٹ نے یہ بیان ٹیکساس کے شہر مڈلینڈ میں دیا، جہاں انہوں نے ریفائنری مالکان اور متعلقہ حکام سے ملاقات کی۔ ان کے مطابق امریکی ریفائنریاں پہلے ہی ریکارڈ سطح پر کام کر رہی ہیں، تاہم حکومت مزید پیداوار بڑھانے کے لیے تعاون کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
امریکی وزیر توانائی کے مطابق امریکا اور دیگر ممالک میں ریفائنری پیداوار میں اضافہ پٹرول کی قیمتیں کم کرنے کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پٹرول نایاب!پمپس پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں
امریکا میں عام پٹرول کی اوسط قیمت 4.06 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرچکی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک ڈالر سے زیادہ یعنی تقریباً 30 فیصد اضافی ہے۔ بلند پٹرول قیمتیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے لیے بھی سیاسی چیلنج بن سکتی ہیں، کیونکہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی معمولی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی۔
ایران تنازع اور تیل کی عالمی مارکیٹ
کرس رائٹ نے ایران کے حوالے سے امریکی حکومت کی طویل مدتی حکمت عملی کا بھی دفاع کیا۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ ایران پر دباؤ کے معاملے میں ’’لانگ گیم‘‘ کھیل رہے ہیں اور اقتصادی پابندیوں اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد رکاوٹوں کے اثرات وقت کے ساتھ بڑھ سکتے ہیں۔
رائٹ نے بتایا کہ ہفتہ اور اتوار دونوں دن 30، 30 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، تاہم ان کے مطابق ایران اس وقت تیل برآمد نہیں کر پا رہا۔
امریکی وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کو محفوظ رکھنے کی کوششیں جاری ہیں اور ایران کی طاقت مسلسل کم ہونے کی توقع ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی تیل مارکیٹ کے لیے ایک اور اہم ہفتہ متوقع ہے، جبکہ امریکا پٹرول کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے ملکی ریفائنریوں کی پیداوار بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے۔

