بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست سپریم کورٹ میں دائر
نظر ثانی درخواست چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے دائر کی
بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی گئی۔
نظر ثانی درخواست چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے دائر کی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت نے تمام دعاؤں اور استدعا کو عبوری مرحلے میں من و عن منظور کر کے مقدمے کے اصل بنیادی مسئلے کو ہی ختم کر دیا، جو کہ عدالت عظمیٰ کے طے شدہ اصولوں کے منافی ہے آئین کا آرٹیکل 25 مساوات کا حق دیتا ہے کسی سزا یافتہ قیدی کو نجی اسپتال میں علاج کی سہولت دینا پورے فوجداری انصاف کے نظام کو متاثر کرے گا۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ دوسرے قیدیوں کے لیے بھی ایسے مطالبات کا دروازہ کھول دے گا، چیف کمشنر اسلام آباد/متعلقہ محکمے کو اس معاملے میں باقاعدہ فریق نہیں بنایا گیا تھا حکم جاری کرنے سے قبل کوئی نوٹس دیا گیا عدالتی فیصلہ اصولِ فطرت اور انصاف کے منافی ہے۔
درخواست کے مطابق جیل رول 1978 میں کسی قیدی کو ہسپتال منتقل کرنے کا طریقہ کار واضع کیا گیا ہے، سپریم کورٹ کے گذشتہ روز کے فیصلہ جیل رولز کو نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت نے پاکستان پرزن رولز، 1978 کے رول 197 قاانون کی رُو سے ہٹ کر حکم دینا ریکارڈ پر موجود ایک نمایاں قانونی خامی ہے آرٹیکل 10 اے منصفانہ ٹرائل کی ضمانت دیتا ہے۔ مقدمے میں بغیر فریقین کو نوٹس جاری کیے آرذر جاری کیا گیا۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ اپٹیشن کے قابلِ سماعت ہونے کے سنجیدہ قانونی نکتہ کو موخر کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر عبوری حکم جاری کر دیا گیا، عبوری مرحلے پر حتمی نوعیت کا ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔

