
( ویب ڈیسک ) آسٹریلیا کے سڈنی ایئرپورٹ پر ایک ماہ کے دوران ایئر ٹریفک کنٹرول سے متعلق چوتھا خطرناک واقعہ سامنے آنے کے بعد حکام نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
آسٹریلین ٹرانسپورٹ سیفٹی بیورو (ATSB) کے مطابق منگل کے روز دو Qantas طیاروں کو زمین پر ایک ہی مقام کی جانب جانے کی ہدایت دی گئی۔ ایک Airbus A321 گولڈ کوسٹ روانگی کی تیاری کر رہا تھا جبکہ ایک Boeing 737 میلبورن سے سڈنی پہنچا تھا۔
تحقیقاتی ادارے کے مطابق Boeing 737 کو ایک ٹیکسی وے پر آگے بڑھنے کی اجازت دی گئی تھی، جبکہ Airbus A321 کو اسی راستے پر مڑنے کی ہدایت دی گئی۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے Airbus کے عملے نے بریک لگائی اور ممکنہ ٹکراؤ سے بچ گیا۔
ATSB نے واضح کیا کہ واقعے میں تصادم کا فوری خطرہ نہیں تھا، تاہم یہ جاننے کے لیے تحقیقات شروع کی گئی ہیں کہ آیا اس واقعے اور گزشتہ ایک ماہ کے دوران پیش آنے والے تین دیگر واقعات کے درمیان کوئی مشترکہ وجہ موجود ہے۔
ادارے کے مطابق تحقیقات کے دوران ایئر ٹریفک کنٹرولرز اور طیاروں کے عملے کے انٹرویوز کیے جائیں گے، دستیاب ریکارڈ شدہ ڈیٹا کا جائزہ لیا جائے گا اور دیگر متعلقہ معلومات بھی جمع کی جائیں گی۔ ابتدائی رپورٹ آئندہ چھ سے آٹھ ہفتوں میں متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹیچر کے تھپڑ مارنے پر 6 سالہ طالبعلم چل بسا! دل دہلا دینے والی ویڈیو بھی سامنے آگئی
اس سے قبل 27 جولائی کو بھی دو Qantas طیارے تصادم کے قریب پہنچ گئے تھے، جبکہ 9 اگست کو ایک Jetstar طیارے کو رن وے پر Qatar Airways کے Boeing 777 سے بچنے کے لیے اچانک بریک لگانا پڑی تھی، جس کے نتیجے میں ایک کیبن کریو رکن زخمی ہوا تھا۔ اسی روز Virgin Australia کے ایک طیارے کو بھی رن وے عبور کرنے والے Qantas طیارے کے باعث ٹیک آف روکنا پڑا تھا۔
ان مسلسل واقعات کے بعد سڈنی ایئرپورٹ پر ایئر ٹریفک کنٹرول کے طریقہ کار اور عملے کی تربیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ATSB کو اس سے قبل ایک ایئر ٹریفک کنٹرولر کی جانب سے بھی رپورٹ موصول ہوئی تھی، جس میں نئے بین الاقوامی ایئرپورٹ کے کھلنے کے نتیجے میں فضائی حدود اور طریقہ کار میں ہونے والی پیچیدہ تبدیلیوں کے لیے عملے کی تیاری پر خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق 50 سے زائد کنٹرولرز نے ایک یونین سروے میں حصہ لیا اور اکثریت نے شکایت کی کہ انہیں نئے اور پیچیدہ طریقہ کار سیکھنے کے لیے مناسب وقت نہیں دیا گیا۔
تاہم آسٹریلیا کی سول ایوی ایشن سیفٹی اتھارٹی نے اپنی جانچ کے بعد قرار دیا کہ ایئر سروسز آسٹریلیا نے ان تبدیلیوں کے حوالے سے مناسب تربیت، طریقہ کار اور آپریشنل معاونت فراہم کی تھی۔

