امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنی خراب ہوتی خلائی دوربین سوئفٹ آبزرویٹری کو بچانے کی کوشش ختم کر دی ہے، جس کے باعث دوربین کے رواں سال کے آخر میں بے قابو ہو کر زمین کی فضا میں داخل ہونے کا امکان ہے۔
ناسا نے تقریباً تین کروڑ ڈالر کی لاگت سے ایک دوسرے خلائی جہاز کے ذریعے سوئفٹ کو بلند مدار میں منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ اسے زمین کی جانب بے قابو واپسی سے بچایا جا سکے۔
تاہم، ریسکیو مشن کے لیے بھیجا گیا خلائی جہاز لنک جولائی کے آغاز میں لانچ ہونے کے چند ہفتوں بعد بے قابو انداز میں گھومنے لگا۔
اگرچہ فلائٹ کنٹرولرز لنک کی گردش کسی حد تک کم کرنے میں کامیاب رہے لیکن مدار میں اس کی سمت اور پوزیشن برقرار رکھنے کے مسائل ختم نہ ہو سکے۔ بالآخر ناسا نے سوئفٹ کو بچانے کا مشن منسوخ کر دیا۔
دوربین زمین پر کب اور کہاں دوبارہ داخل ہوگی، اس کی حتمی تاریخ اور مقام ابھی معلوم نہیں۔
ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین نے کہا کہ یہ وہ نتیجہ نہیں تھا جس کے لیے ادارہ کام کر رہا تھا۔ لیکن اس سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوتی کہ مشن کی کوشش کیوں ضروری تھی۔
سوئفٹ آبزرویٹری 2004 میں لانچ کی گئی تھی تاکہ کائنات کے طاقتور ترین دھماکوں (یعنی گاما رے برسٹس) سمیت دیگر خلائی اجسام اور واقعات کا مطالعہ کیا جا سکے۔ اسے ابتدائی طور پر صرف دو سالہ مشن کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، مگر اس نے 21 سال تک سائنسی خدمات انجام دیں۔
حالیہ عرصے میں سورج کی سرگرمی میں اضافے کے باعث سوئفٹ کا کم زمینی مدار تیزی سے کم ہونا شروع ہو گیا، جس کے نتیجے میں اب اس کی زمین پر واپسی ناگزیر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
Source link

