سندھ کی تقسیم اور اس پر اعتراضات

gul muhammad mangi1787259438 0


موجودہ سندھ مختلف ادوار میں کبھی ایک ریاست تو کبھی ایک سے زیادہ ریاستوں کی شکل میں رہی ہے، تاہم اس کی وحدت کو اس طرح کے سنگین خطرات پہلے کبھی نہ تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پہلی بار مغلوں کے دور میں دو اور اس کے بعد تالپور خاندان کے دور میں سندھ کو تین ریاستوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔

تالپور دور میں سندھ کی تقسیم اور ان کے اہم مراکزحیدرآباد (زیریں/وسطی سندھ) مرکزی اور سب سے طاقتور ریاست حیدرآباد سے کنٹرول ہوتی تھی، جہاں تالپور خاندان کے چار بھائی (چو یاری کہلاتے تھے) حکمران تھے۔خیرپور (بالائی سندھ) شمالی سندھ کا حصہ میر سہراب خان تالپور کے زیر انتظام خیرپور ریاست کے طور پر قائم رہا۔میرپور خاص (مشرقی سندھ) مشرقی اور خوشحال میدانی علاقوں پر مشتمل یہ ریاست میر ٹھارو خان ٹالپور اور ان کی اولاد کے پاس تھی۔ اس طرح سندھ کے اندر یہ تینوں ریاستیں الگ الگ طور پر قائم تھیں۔

انگریزوں نے حیدرآباد کی ریاست کو 1843 میں فتح کیا۔ انگریزوں نے سر چارلس نیپیئر کی قیادت میں 17 فروری 1843 کو حیدرآباد کے قریب میانی اور پھر 24 مارچ 1843 کو ’’دبو‘‘ کی جنگ میں تالپوروں کو شکست دی اور میرپور خاص کی ریاست پر بھی قبضہ کرکے اسے سندھ کی الگ حیثیت ختم کرکے اسے بمبئی پریزیڈنسی سے منسلک کردیا تھا۔ تب ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت تھی۔ اس جنگ میں سندھی فوج کے سپہ سالار ہوش محمد شیدی نے ’’مرسوں مرسوں سندہ نہ ڈیسوں‘‘ کا نعرہ لگایا اور جام شہادت نوش کیا۔ اس شکست کے بعد میرپور خاص کے حکمران میر شیر محمد تالپور صحرا کی طرف نکل گئے اور کچھ عرصہ تک چھاپہ مار کارروائیاں جاری رکھیں۔

 تاہم ریاست خیرپور کے والی میر علی مراد خان تالپور نے حیدرآباد اور میرپور خاص کے تالپور حکمرانوں کا ساتھ دینے کے بجائے انگریز جنرل سر چارلس نیپیئر کے ساتھ خفیہ سیاسی اتحاد کر لیا تھا۔ انگریزوں نے میر علی مراد خان کو یہ یقین دلایا کہ اگر وہ اس جنگ میں برطانوی فوج کا ساتھ دیں گے، تو جنگ کے بعد انھیں بالائی سندھ (خیرپور) کا واحد اور خودمختار حکمران تسلیم کر لیا جائے گا۔ اسی معاہدے کے تحت خیرپور کی فوج نے حیدرآباد کی ’’ جنگ میانی‘‘ اور میرپور خاص کی ’’جنگ دبو‘‘ میں اپنے ہی خاندان کے دوسرے تالپوروں کی کوئی مدد نہ کی۔ جب انگریزوں نے 1843 میں پورے سندھ کو فتح کر کے برطانوی ہند کا حصہ بنا دیا۔ تو ریاست خیرپور کا وجود ختم نہیں کیا، بلکہ وہ برطانوی چھتری کے نیچے ایک نیم خودمختار نوابی ریاست (Princely State) کے طور پر 1955 تک قائم رہی۔ سندھ کو فتح کرنے کے چار سال بعد انگریزوں نے 1847 میں سندہ کی الگ حیثیت ختم کرکے اسے بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ بنا دیا، جب کہ کراچی پر انگریزوں نے اس سے پہلے ہی 3 فروری 1839 کو قبضہ کرلیا تھا اور تالپور عملداروں سے 7 فروری 1839 کو معاہدہ کرکے کراچی کو باقاعدہ انگریز عملداری میں لے لیا تھا۔ سند ھ کو بمبئی سے ملانے کے خلاف لوگوں نے ایک طویل تحریک چلائی جس کے نتیجے میں بالآخر برطانوی پارلیمنٹ کے قانونِ ہند 1935 (Government of India Act 1935) کے تحت باضابطہ طور پر یکم اپریل 1936کو سندھ کو بمبئی سے الگ کر کے ایک خودمختار صوبے کا درجہ دے دیا گیا۔تقسیم ہند کے بعد بڑی تعداد میں بھارتی مسلمان ہجرت کرکے پاکستان آئے۔ ان کی آمد کی بہت ساری وجوہات ہیں تاہم ایک وجہ ’’کلیم‘‘ بھی ہے۔

بھارت سے آنے والے مہاجرین ایک عرصہ تک کلیم داخل کرکے زمینیں، کاروبار اور بالخصوص شہری علاقوں میں گھروں سمیت سرکاری ملازمتیں بھی حاصل کرتے رہے۔ وزیراعظم لیاقت علی خان نے مہاجرین کا سرکاری نوکریوں میں سات فیصد کوٹہ مقرر کیا تھا جب کہ ان کی تعداد مجموعی آبادی کا تین فیصد بمشکل تھی۔ ان مہاجرین کو ایک منصوبے کے تحت نئے دارالحکومت کراچی میں بسایا گیا۔ تعداد زیادہ ہونے کے نتیجے میں پہلی بار مولوی عبدالحق اور رئیس امروہوی نے الگ صوبے کا مطالبہ کیا، تاہم اسے کوئی خاص پذیرائی نہ مل سکی جب کہ شہری اردو آبادی کے نوجوانوں کی جانب سے اس قسم کے نعرے کبھی کبھار سننے کو ملتے ہیں مگر اردو دانشور اس کی سخت مخالفت کرتے نظر آتے ہیں۔

قیامِ پاکستان کے فوراً بعد مئی 1948میں جب وفاقی حکومت نے کراچی کو سندھ سے الگ کر کے پاکستان کا دارالحکومت بنانے کا فیصلہ کیا، تو اس وقت کے وزیر ِ اعلیٰ سندھ ایوب کھوڑو اور دیگر سندھی رہنماؤں نے اس کی شدید مخالفت کی۔ سندھ اسمبلی نے اس کے خلاف قرارداد منظور کی۔ صوبہ بہاولپور اور صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے قراردادیں آئینی طریقہ کار کے مطابق پہلے ہی متعلقہ صوبائی اسمبلیاں منظور کرچکی ہیں۔ بہرحال اس وقت صوبہ سندھ کے سندھی اور اردو بولنے والے دانشور یکساں طور پر مخالفت کر رہے ہیں۔ لوگ سندھ سے جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں اور وہ کم از کم سندھ میں مزید صوبے نہیں چاہتے، دیکھنا یہ ہے کہ اس تنازعے کا حل کیا نکلتا ہے؟





Source link

متعلقہ پوسٹ