وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مقرر کی گئی انکوائری کمیٹی نے جمعرات کو اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرسری کا دورہ کیا، جہاں گذشتہ روز پھیلنے والی آگ سے 14 نومولود بچوں کی اموات ہوئیں۔
جمعرات کو بھی پمز میں فضا سوگوار رہی، جہاں ڈاکٹرز، عملہ، مریض اور ان کے لواحقین بچوں کی اموات پر غمزدہ تھے۔ آتشزدگی والے مقام، یعنی تیسری منزل کے حصے تک رسائی محدود کردی گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گذشتہ روز واقعے کی تحقیقات کے لیے ریٹائرڈ وفاقی سیکریٹری شاہد خان کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی تھی، جو ہسپتال کے عملے، عینی شاہدین اور متاثرہ خاندانوں کے بیانات ریکارڈ کرے گی۔
کمیٹی سے توقع ہے کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر وزیراعظم کو فوری سفارشات پیش کرے گی جبکہ پانچ دن میں جامع رپورٹ تیار کرے گی۔
سوگوار خاندان اور عوام آتشزدگی کی وجوہات اور ملک کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں حفاظتی اقدامات کے بارے میں جوابات کے منتظر ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پمز میں بدھ کی صبح مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی تیسری منزل پر نرسری کے اندر ایک چنگاری سے آگ بھڑک اٹھی تھی، جو چند ہی سیکنڈز میں انکیوبیٹرز کے ساتھ موجود آکسیجن پوائنٹس کے باعث پھیل گئی۔
ترجمان پمز ہسپتال کے مطابق عملے نے بچوں کو باہر نکالنے کی کوشش میں دو مرتبہ اندر داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم اسی دوران ایک زوردار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں چھتیں گر گئیں۔
یہ آگ ہسپتال کی تیسری منزل پر واقع نرسری تک محدود رہی اور پمز ہسپتال کے دیگر حصے متاثر نہیں ہوئے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ نرسری میں موجود دو ڈاکٹروں، دو نرسوں اور دیگر عملہ وہاں موجود 15 بچوں میں سے صرف ایک کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہو سکا۔
شہری انتظامیہ کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے ابھی اپنی حتمی رائے قائم نہیں کی اور وہ آزادانہ طور پر آگ لگنے کی وجہ کا تعین کرے گی۔
سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے احکامات
اس واقعے کے بعد حکام نے ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات اور آگ بجھانے کے آلات کا وسیع پیمانے پر جائزہ لینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب میں حکومت نے محکمہ صحت کو فوری طور پر ہسپتالوں میں آگ سے بچاؤ کے نظام اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی سہولیات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔
آتشزدگی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے سیکریٹری صحت اسلم غوری کو عہدے سے معطل کر دیا تھا۔ غمزدہ والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ آگ کیسے لگی اور کیا نرسری میں آگ بجھانے کے لیے مناسب آلات اور انتظامات موجود تھے یا نہیں؟
یہ سانحہ پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران بچوں سے متعلق ہونے والے بدترین حادثات میں سے ایک ہے.
سعودی عرب کا اظہار یکجہتی
سعودی عرب نے اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی سے نومولود بچوں کی اموات پر گہرے دکھ اور پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں ’اسلام آباد کے (پمز) ہسپتال میں پیش آنے والی اس المناک آتشزدگی کے باعث جان سے جانے والے نومولود بچوں کے اہل خانہ اور برادر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت اور عوام سے مملکتِ سعودی عرب کی جانب سے گہری تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار‘ کیا گیا۔
وزارت نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’سعودی عرب اس المناک واقعے کے بعد متاثرہ خاندانوں اور پاکستان کی حکومت و عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور پاکستان اور اس کے عوام کے لیے سلامتی اور تحفظ کی خواہش کرتا ہے۔‘

