نیپال اور چین کے تبت خطے کی سرحد پر گلیشیئر کے انہدام سے آنے والے تباہ کن سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد کم از کم ۱۶۲؍ ہوگئی ہے، جبکہ دونوں ممالک میں مجموعی طور پر تقریباً ۱۵۰۰؍ افراد لاپتہ ہیں، جن میں ۷۰۰؍ سے زائد غیر ملکی شامل ہیں۔
بدھ کے روز نیپال کے روسوا ضلع اور تبت میں آنے والے اس سیلاب نے کئی بستیاں، سڑکیں، پل اور بجلی کے منصوبے تباہ کردیئے۔ نیپال میں ۸۲۶؍ افراد لاپتہ ہیں جن میں تقریباً ۵۰۰؍ غیر ملکی شامل ہیں، جبکہ تبت کے گیئرونگ کاؤنٹی میں ۵۵۸؍ افراد لاپتہ بتائے گئے ہیں جن میں ۲۶۰؍ غیر ملکی ہیں۔ نیپال میں لاپتہ غیر ملکیوں میں ۱۷۷؍ ہندوستانی، ۶۳؍ امریکی، ۳۴؍ آسٹریلوی، ۳۳؍ برطانوی اور ۲۵؍ کینیڈین شہری شامل ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ابتدائی طور پر زلزلے کو ممکنہ محرک سمجھا گیا تھا، تاہم بعد کے تجزیے سے واضح ہوا کہ یہ زلزلہ نہیں بلکہ گلیشیئر اور چٹانوں کے انہدام سے پیدا ہونے والی لرزش تھی۔ سیٹلائٹ تجزیے کے مطابق گلیشیئر کا بڑا حصہ ۵۲۰۰؍ میٹر کی بلندی سے ٹوٹ کر ۱۲۰۰؍ میٹر نیچے گرا، جس نے دریا کو عارضی طور پر روک دیا اور بعد میں رکاوٹ ٹوٹنے سے پانی کا طاقتور ریلہ نیچے آیا۔
نیپالی فوج اور پولیس کے ۵؍ ہزار سے زائد اہلکار ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔ جمعرات کو ۱۲۵؍ افراد، جن میں ۲۰؍ غیر ملکی شامل تھے، کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ ہندوستان نے نیپال کے لیے امدادی سامان روانہ کیا ہے۔ حکام کو تبت میں بننے والی ایک اور جھیل کے اچانک اخراج سے مزید سیلاب کا خدشہ بھی لاحق ہے، جس کی نگرانی جاری ہے۔

