حد بندی سے اڑیسہ کو نقصان ہوگا، سیاسی طور پر اس کی اہمیت ختم ہو جائے گی: نوین پٹنائک

Navin Patnaik PTI9 26 2018 000060B


اڑیسہ کے سابق وزیر اعلیٰ اور اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف نوین پٹنائک نے مطالبہ کیا ہے کہ اڑیسہ کے وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی حد بندی بل میں ریاست کے سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک قرارداد منظور کرنے کی خاطر’ 48 گھنٹوں کے اندر‘اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلائیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر حد بندی بل اپنی موجودہ شکل میں منظور ہو جاتا ہے تو اڑیسہ کے سیاسی مفادات شدیدطور پر متاثر ہوں گے۔

Navin Patnaik PTI9 26 2018 000060B

نوین پٹنائک۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) کے صدر نوین پٹنائک نے کہا کہ اگر لوک سبھا کی ساخت میں تبدیلی لانے والا مجوزہ حد بندی بل منظور ہو جاتا ہے، تو اڑیسہ کو سب سے زیادہ نقصان ہوگا اور وہ سیاسی طور پر ایک غیر اہم ریاست بن کر رہ جائے گا۔

دی ٹیلی گراف کی خبر کے مطابق، پانچ بار وزیر اعلیٰ رہ چکے پٹنائک نے مجوزہ آئین (131 واں ترمیمی) بل، 2026 پر اعتراض کیا ہے، جس کا مقصد لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد 543 سے بڑھا کر 850 کرنا ہے۔

اڑیسہ میں اپوزیشن کے رہنما نوین نے وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی سے اپیل کی ہے کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلا کر ایک قرارداد منظور کریں، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ریاست کے سیاسی حقوق میں دیگر ریاستوں کے ذریعے 0.001 فیصد تک کی بھی کمی نہ ہو۔

وزیر اعلیٰ ماجھی کو لکھے گئے خط میں نوین پٹنائک نے کہا کہ اڑیسہ میں اس وقت 21 ارکان پارلیامنٹ ہیں، جو کل کا تقریباً 3.9 فیصد بنتے ہیں۔ اگر یہ ترمیم منظور ہو جاتی ہے تو نمائندگی بڑھ کر 29 ہو جائے گی، لیکن حصہ کم ہو کر 3.4 فیصد رہ جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اڑیسہ، جس نے آبادی میں اضافے کو قابو میں رکھا ہے اور انسانی وسائل کو فروغ دیا ہے، قومی سیاسی نمائندگی میں ممکنہ طور پر 15 فیصد نقصان کا سامنا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا، ’ہماری سیاسی آواز اور اثر و رسوخ دیگر ریاستوں میں منتقل ہو جائیں گے۔ رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ اڑیسہ نقصان اٹھانے والی چوتھی سب سے بڑی ریاست ہوگی، جو 4.5 کروڑ اڑیہ لوگوں کے لیے ایک بڑا جھٹکا اور آنے والی نسلوں کے ساتھ ایک سنگین ناانصافی ہوگی۔‘

نوین پٹنائک کے مطابق، اس بل سے اڑیسہ کے سیاسی حقوق کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے اسے باہمی وفاقیت اور ریاست کے عزائم کے لیے خطرہ قرار دیا۔

انہوں نے ماجھی سے اس معاملے کو مضبوطی سے اٹھانے کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ آنے والی نسلیں بے حسی  کو معاف نہیں کریں گی۔

انہوں نے خواتین کے ریزرویشن بل کی حمایت کرتے ہوئے اسمبلیوں میں خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کی نمائندگی کے لیے اپنی پارٹی کے عزم کا اعادہ کیا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ